
کراچی ( سپورٹس رپورٹر) سابق قومی فاسٹ باؤلر شعیب اختر کوپاکستان کرکٹ کے مستقبل کی فکر کھانے لگی ۔ حالیہ انٹرویو میں انہوں نے کہا ہے کہ اگر پاکستانی ٹیم ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ جیت بھی جائے تو پھر بھی یہی کہوں گا کہ پاکستان کرکٹ درست سمت میں نہیں جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کو مختصر فارمیٹ کے بجائے ون ڈے اور ٹیسٹ فارمیٹ پر توجہ دینی چاہئے ۔ شعیب اختر کے مطابق قومی ٹیم کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ٹیلنٹ ہونے کے باوجود کھلاڑی پچاس اوورز کی کرکٹ اچھی نہیں کھیل رہے ۔ انہوں نے بتایا کہ بیٹسمین سٹرائیک روٹیشن میں بھی کمزور ہیں اور گیندیں بھی بہت ضائع کرتے ہیں۔ ایک سوال پر شعیب اختر نے کہا کہ انگلش ٹیم ٹی ٹونٹی فارمیٹ میں گرین شرٹس کو کمزور سمجھنے کی غلطی کر گئی جس کے باعث اسے پہلے میچ میں شکست ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ٹونٹی میں پاکستان ایک مضبوط ترین ٹیم ہے اور انگلینڈ کو یہ بات سمجھناچاہئے ۔ شعیب اختر کے مطابق پاکستان کی ٹی ٹونٹی میں کارکردگی متاثر کن ہے مگر ٹیسٹ کرکٹ میں مختلف سوچ کے ساتھ میدان پر جانا پڑتا ہے ۔ کھلاڑیوں کو بھی فارمیٹ کو مد نظر رکھ کر کھیلنا ہوتا ہے اگر ایک ہی طرح کی سوچ رکھی جائے تو پانچ روزہ کرکٹ میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ قومی ٹیم کے تھنک ٹینک کو سوچنا ہو گا کہ ون ڈے اور ٹیسٹ میں قومی کھلاڑیوں کی کارکردگی کو کیس طرح بہتر کیا جائے کیونکہ اصل کرکٹ ٹی ٹونٹی نہیں ہے بلکہ ٹیسٹ میں کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کا امتحان ہوتا ہے اور پانچ روزہ فارمیٹ سے ہی معیاری بیٹسمین اور باؤلرز سامنے آتے ہیں۔



