کھرکھیڑا کسٹم چیک پوسٹ عملے کی مجرمانہ غفلت بے نقاب، کسٹم چیک پوسٹ کے ریاستی گودام سے منشیات چوری کی واردات، وندر کھر کھیڑا کسٹم چیک پوسٹ کے ریاستی گودام سے لاکھوں روپے مالیت کی منشیات اور قیمتی اشیاء کی چوری کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے

20

کھرکھیڑا کسٹم چیک پوسٹ عملے کی مجرمانہ غفلت بے نقاب، کسٹم چیک پوسٹ کے ریاستی گودام سے منشیات چوری کی واردات، وندر کھر کھیڑا کسٹم چیک پوسٹ کے ریاستی گودام سے لاکھوں روپے مالیت کی منشیات اور قیمتی اشیاء کی چوری کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے جو کہ سکیورٹی اور نگرانی کے نظام پر ایک سوالیہ نشان بن کر سامنے آیا ہے یہ سنگین واقعہ 12 جون بروز جمعرات کی رات پیش آیا جب ایک مقامی رکشہ ڈرائیور ایاز علی نے فیلڈ انفورسمنٹ یونٹ کھرکھیرا کو بروقت اطلاع دی کہ چیک پوسٹ سے چند سو میٹر کے فاصلے پر ایک سفید کرولا کار میں مشتبہ افراد منشیات سے بھرا ٹرک لے جا رہے ہیں رکشہ ڈرائیور کی حاضر دماغی کے باعث عملہ موقع پر پہنچا اور جھاڑیوں سے ایک سرخ رنگ کے سفید ڈیزائن والے ٹرک کو برآمد کیا، جس میں 3.608 کلوگرام بھنگ موجود تھی تاہم وہاں پر موجود ملزمان کار میں فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ابتدائی تفتیش میں سب سے بڑا انکشاف یہ ہوا کہ برآمد شدہ منشیات دراصل ریاستی گودام سے چوری شدہ تھی گودام کے تالے بدلے جا چکے تھے جس سے یہ بات کھل کر سامنے آئی کہ یہ واقعہ محض چوری نہیں بلکہ ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت کی گئی واردات تھی، سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ چوری شدہ سامان ریاستی تحویل میں موجود تھا اور کھرکھیڑاکسٹم چیک پوسٹ کے عملے کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ اس پر کڑی نظر رکھتے لیکن یہ واقعہ اس امر کا ثبوت ہے کہ یا تو عملے نے مجرمانہ غفلت برتی یا پھر کسی اندرونی ملی بھگت کے بغیر یہ چوری ممکن ہی نہیں تھی، ذرائع کے مطابق چار مختلف کیسز سے منشیات اور قیمتی اشیاء غائب پائی گئیں جن میں 450 کلوگرام چرس سے 07 کلوگرام چوری، 19.832 کلوگرام بھنگ سے 16.224 کلوگرام غائب، 166 کلوگرام مشتبہ چرس میں سے 73 کلوگرام چوری ہو گئیں جبکہ 310 موبائل فونز میں سے 263 موبائلز غائب تھے یہ نہ صرف چیک پوسٹ عملے کی نااہلی کا ثبوت ہے بلکہ یہ ایک قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اندر سکیورٹی نااہلی کا کھلا مظاہرہ ہے، اس حوالے سے بتایا جارہا ہے کہ پولیس تھانہ وندر میں نامعلوم چوروں کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کردی گئی ہے، واضح رہے کہ ایک جانب ریاست منشیات کے خلاف جنگ میں مصروف ہے تو دوسری طرف ریاستی گوداموں سے منشیات کی چوری خود اداروں کی شفافیت پر سوالات کھڑے کر رہی ہے کہ ریاستی گودام کی چابیاں کن افراد کے پاس تھیں؟ تالے کیسے بدلے گئے اور یہ کس کی اجازت سے ہوا؟ چیک پوسٹ پر گشت کرنے والا عملہ اس واردات کے دوران کہاں تھا؟ کیا یہ واردات اندرونی معلومات کے بغیر ممکن تھی؟ ذمہ داران کے خلاف کیا کارروائی کی جائے گی؟ عوامی حلقے اس واقعہ پر شدید برہمی کا اظہار کر رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ واقعہ کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کی جائیں اور چیک پوسٹ عملے کو فوری طور پر معطل کر کے ان کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ریاستی گودام جو کہ منشیات جیسے حساس ضبط شدہ سامان کی حفاظت کے لیے بنائے گئے تھے اب خود جرائم کا مرکز بن چکے ہیں اگر چیک پوسٹ اور گودام عملہ اس قدر غیر ذمہ دار اور غیر محفوظ ہو جائے تو پھر عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کا رشتہ کہاں باقی رہتا ہے عوامی حلقوں کے مطابق یہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ کھرکھیڑاکسٹم چیک پوسٹ کے افسران اور عملے کی مکمل غفلت کی علامت ہے اگر فوری طور پر انکے خلاف کاروائی نہ کی گئی تو منشیات، کرپشن اور جرائم کا یہ گٹھ جوڑ نہ صرف اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچائے گا بلکہ عوامی تحفظ کو بھی شدید خطرے میں ڈال دے گا۔

اوتھل(رپورٹ محمد عمر لاسی)

Comments are closed.