سندھ کے اضلاع لاڑکانہ اور کشمور کے کچہ ایریاز میں ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف پولیس بہادری اور دلیری کا مظاہرہ کرنیوالے غازی پولیس افسران و جوانوں کے اعزاز میں سلیم واحدی آڈیٹوریم ڈرائیونگ لائسنس برانچ کلفٹن میں تقریب تقسیم انعامات و اسناد کا انعقاد کیا گیا

25

کراچی،19 جون:- سندھ کے اضلاع لاڑکانہ اور کشمور کے کچہ ایریاز میں ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف پولیس بہادری اور دلیری کا مظاہرہ کرنیوالے غازی پولیس افسران و جوانوں کے اعزاز میں سلیم واحدی آڈیٹوریم ڈرائیونگ لائسنس برانچ کلفٹن میں تقریب تقسیم انعامات و اسناد کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی۔

تقریب تقسیم ریوارڈز و اسناد میں آئی جی سندھ نے لاڑکانہ ڈویژن کے اضلاع کشمور اور شکارپور کے 91 پولیس افسران و جوانوں کو سی سی ون سرٹیفیکیٹس،ایک بنیادی تنخواہ اور کیش ریوارڈ سے نوازتے ہوئے کہا کہ یہ ریوارڈ ایک ایسا اعزاز ہے جتنا بھی دیا جائے کم ہوتا ہے،میں چاہتا ہوں آج اگر ریوارڈ لینے والوں کی تعداد 90 ہےتو کل یہ تعداد 900 تک چلی جائے۔انکا کہنا تھا کہ پولیس افسران و جوانوں کو سزا یا انکی سرزنش پر مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے
مجھے قوی امید ہے کہ لاڑکانہ ڈویژن سندھ پولیس کا سر ہمیشہ اونچا رکھے گی اور سندھ پولیس کی نیک نامی اور شہرت میں مذید اضافہ کریگی۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ڈی آئی جی لاڑکانہ کی سربراہی میں شکارپور میں شاہزیب چاچڑ اورکشمور ضلع میں زبیر نذیر نے جرائم کے خلاف غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے جس پر میں انھیں سراہتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ یہ تقریب تقسیم اسناد ہمارے ان شہداء کی بدولت ہے،جنہوں نے اپنے خون سے ہمیں یہ مقام اور عزت بخشی ہے۔ سندھ پولیس اپنی بہادری کی وجہ سے مشہور ہے اور یہ تمغہ بہادری ہمیں شہداء کی وجہ سے ملا ہے۔آج اس تقریب کے توسط سے میں حکومت سندھ کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جنہوں نے پولیس اہلکارو ں اور شہیدوں کا خاص خیال رکھا اور پولیس اہلکاروں کے لیئے ہیلتھ انشورنس جبکہ شہداء کے لیئے مختص فنڈ میں اضافہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ عوام کے لیئے تحفظ پہلی اور دوستی دوسری ترجیح ہوتی ہے تاہم عوام کا تحفظ اللہ کے بعد سندھ پولیس کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے لوگوں کی جان ومال کی حفاظت کریں۔
انہوں نے مذید کہا کہ اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں کمی آپ لوگوں کی انتھک اور شبانہ روز محنت کا نتیجہ ہے جس پر میں آپ سبکو شاباش دیتا ہوں۔

تقریب سے خطاب میں ڈی آئی جی لاڑکانہ ناصر آفتاب نے اپنے خطاب میں پولیس کارکردگی کا احاطہ کرتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ ایک سال کے دوران بدنام زمانہ ڈاکوؤں سمیت جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ کشمور پولیس کے 215 جبکہ شکارپور پولیس کے 144 مقابلے ہوئے دونوں اضلاع میں مذکورہ دورانیئے میں پولیس مقابلوں کے دوران بدنام زمانہ ڈاکو نور حسن بڈھانی، حکیم ٹارٹ جتوئی، الٰہی احمد گورانی ہلاک ہوئے جنکی حکومت نے زندہ یا مردہ گرفتاری یا انکے سروں کی قیمت بالترتیب 50 لاکھ،20 10 لاکھ مقرر کر رکھی تھی سلاوہ اذیں اس دوران صحافی جان محمد مہر کے قاتل ڈاکو شیر محمد سمیت مجموعی طور پر 07 نوٹیفائیڈ ڈاکو ہلاک جبکہ 06 گرفتار ہوئے۔انہوں بتایا کہ گذشتہ ایک سال کے دوران مجموعی پولیس مقابلوں اور چھاپہ مار کاروائیوں میں 73 ڈاکو ہلاک ،289 ڈاکو/ جرائم پیشہ عناصر کو گرفتار کیا گیا جنکے قبضہ سے 344 کی تعداد میں مختلف ہتھیار بھی برآمد ہوئے۔انکا کہنا تھا کہ گذشتہ ایک سال کے دوران دونوں اضلاع میں 362 شہریوں کو ہنی ٹریپ کے جال کے ذریعے اغواء ہونے سے بچایا گیا۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ آج کی اس تقریب کے انعقاد پر میں آئی جی سندھ کا انتہائی مشکور ہوں اور میں یقین دلاتا ہوں کہ اس پذیرائی، حوصلہ افزائی اور ستائش سے جوانوں کے حوصلے مذید بلند ہونگے اور یہ زیادہ سے زیادہ محنت کریں گے۔
لاڑکانہ ڈویژن کے پولیس اہلکار نڈر اور بہادر ہیں،کبھی کسی دشمن سے ڈریں ہیں اور نہ ڈریں گے۔

اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی ویلفیئر،ڈی آئی جیز،ڈرائیونگ لائسنس،لاڑکانہ، اسٹبلشمنٹ،ہیڈکواٹرز، ایس ایس پی کشمور، شکارپور سمیت دیگر پولیس افسران بھی تھے۔

Comments are closed.