پنجاب، بلوچستان اور سندھ میں کورونا کے مزید کیسز، ملک بھر میں تعداد 380 ہو گئی

0 42

کراچی /لاہور /اسلام آباد /پشاور /کوئٹہ (این این آئی)پاکستان میں کورونا وائرس کے مزید 78 کیسز سامنے آ گئے ہیں جس کے بعد ملک میں متاثرہ افراد کی تعداد 380 ہو گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق کورونا وائرس پاکستان سمیت دنیا کے 170 سے زائد ملکوں تک چکا ہے اور اب تک 9 ہزار سے زائد لوگ ہلاک ہو چکے ہیں،پاکستان میں بھی گزشتہ روز دو افراد کی کورونا وائرس سے 2 افراد ہلاکت کی تصدیق ہوئی جن میں ایک کا تعلق مردان اور دوسرے کا تعلق پشاور سے تھا۔سندھ میں کورونا وائرس کے مزید 5 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد صوبے میں مجموعی تعداد 213 ہوگئی ہے۔ترجمان محکمہ صحت نے بتایا کہ پانچ کیسز کراچی میں رپورٹ ہوئے ہیں جو مقامی لوگ ہیں، متاثرہ اشخاص کے رابطہ میں رہنے والے افراد کے بھی ٹیسٹ کے نتائج مثبت آئے ہیں۔ترجمان نے بتایا کہ سکھر میں 151، کراچی میں 61 اور حیدرآباد میں کورونا وائرس کا ایک کیس ہے۔ دوسری جانب سندھ میں جمعرات سے سرکاری دفاتر بند رکھنے کا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا ، گزشتہ روز سے شاپنگ مالز، ریسٹورنٹس اور تفریحی مقامات کو 15 روز کے لیے بند کردیا گیا تھا ۔سکھر کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق تفتان سے مزید زائرین کو قرنطینہ سینٹر لایا گیا ہے جہاں زائرین کی تعداد 1050 ہوگئی ہے ،کراچی سے ماہرڈاکٹروں کی ٹیم قرنطینہ سینٹرپہنچ گئی۔ضلع انتظامیہ کے مطابق تفتان بارڈر سے آئے مسافروں کی اسکریننگ کاعمل جاری ہے۔انتظامیہ نے حفاظتی انتظامات کے تحت سکھر کی تمام مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور چائے خانے بند کرادئیے ہیں۔بلوچستان میں کورونا وائرس کے مزید کیسز سامنے آنے کے بعد صوبے میں متاثرہ افراد کی تعداد 45 ہو گئی ہے۔ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی نے کورونا وائرس کے 22 نئے کیسز کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں اب تک 45 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔پنجاب کی وزیرصحت یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ صوبے میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 78 ہو گئی ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یاسمین راشد نے بتایا کہ 384 نمونوں کے ٹیسٹ کیے جن میں سے 320 نتائج منفی آئے ، 78 افراد کے کیسز مثبت رپورٹ ہوئے۔ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق کورونا وائرس میں مبتلا ہونے والے مریضوں میں پیپلز پارٹی کے مرحوم سینیٹر کی بیٹی بھی شامل ہیں جو چند روز قبل برطانیہ سے پاکستان پہنچی تھیں۔پنجاب میں سرکاری دفاتر میں ملازمین کی تعدادکم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، ریسکیو 1122 نے کورونا وائرس کے حوالے سے ہیلپ لائن 1190 قائم کر دی ۔ریسکیو ذرائع کے مطابق کورونا وائرس جیسی علامات محسوس کرنے پر شہری ہیلپ لائن 1190 پر رابطہ کر سکیں گیریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ ہیلپ لائن کا مقصد کورونا سے بچائوکیلئے شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنا ہے۔خیبرپختون خوا میں مزید 4 کیس رپورٹ ہوئے ہیں جن کے بعد صوبے میں مجموعی کیسز کی تعداد 23 ہو گئی ،گزشتہ روز ضلع بونیر میں کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا تھا۔ڈی سی بونیر محمد خالد خان نے بتایا کہ کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد متاثرہ شخص کو ڈگر اسپتال آئسولیشن وارڈ منتقل کر دیا گیا ، متاثرہ شخص ایک ہفتہ قبل متحدہ عرب امارات سے آیا تھا۔کورونا وائرس کے باعث خیبر پختونخوا میں ہونے والی دو ہلاکتوں کے بعد پشاور میں کینال روڈ کی ایک گلی کو قرنطینہ قرار دے دیا گیا ہے جبکہ مردان میں بھی یونین کونسل منگاہ کو لاک ڈاؤن کر کے داخلی و خارجی راستے پر پولیس تعینات کر دی گئی ہے۔گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 13 ہے۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 4 نئے کیس سامنے آئے ہیں جس کے بعد وفاقی دارالحکومت میں کورونا کے کیسز کی تعداد 7 ہوگئی ہے۔بلوچستان حکومت نے کورونا وائرس کے خطرات کے پیش نظر کوئٹہ کے تمام بڑے شاپنگ مالز ،ریسٹورینٹس اور بین الصوبائی ٹرانسپورٹ بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے،صوبائی حکومت نے ایک ارب روپے سے کورونا فنڈ قائم کردیا جب کہ وزرا، اراکین اسمبلی اور ملازمین اپنی تنخواہیں عطیہ کریں گے۔ڈپٹی کمشنر میر پور آزاد کشمیر کے مطابق میر پور آئسولیشن وارڈ میں ایک شخص میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے۔ڈی سی میر پور نے بتایا کہ متاثرہ شخص 14 دن قبل ایران سے تفتان آیا تھا، متاثرہ شخص کو 4 دن سے میر پور آئسولیشن وارڈ میں رکھا ہواتھا۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ملک میں بڑے ہوٹلز کو قرنطینہ سینٹرز میں تبدیل کرنے کیلیے صوبوں کے چیف سیکریٹریوں کو خط لکھ دیا۔این ڈی ایم اے کی جانب سے آزاد کشمیر سمیت تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز کو 16 مارچ کو خط لکھا گیا جس میں کہا گیا ہیکہ کورونا وائرس کو مزید پھیلائوسے روکنے کے اقدامات کے پیش نظر ملک میں تھری اور فور اسٹار ہوٹلز کو خالی کروا کر قرنطینہ مراکز میں تبدیل کیا جائے، کورونا وائرس کے ایک مشتبہ شخص کیلیے ایک کمرہ کی پالیسی اپنائی جائے۔خط میں کہا گیا کہ این ڈی ایم اے کو قرنطینہ مراکز کی تفصیلات سے فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.