ترک اور کرد بچوں کی مانند ہیں ، ایک دن لڑنا ہی تھا، ٹرمپ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہوں نے ترک اور کرد افواج کو ہلاکت خیز مقابلے میں لڑائی کی اجازت دی کیوں کہ دونوں بچوں کی طرح ہیں جنہیں ایک دوسرے سے لڑنا تھا۔بین الاقوامی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ٹیکساس میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ میں نے جو کیا وہ غیر روایتی تھا، میں نے کہا تھا کہ وہ کچھ دیر بعد لڑ پڑیں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ایسا ہے جیسے کسی مجمعے میں 2 بچے، پہلے آپ انہیں لڑنے دیتے ہیں اور اس کے بعد آپ انہیں الگ کرتے ہیں۔امریکی صدر نے کہا کہ وہ کچھ دن تک لڑے اور یہ بہت خطرناک تھا۔ریلی میں خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی خون کا ایک قطرہ تک نہیں بہایا گیا۔امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ہم وہاں گئے اور ہم نے کہا کہ ہمیں تعطل چاہیے اور کرد بہت زبردست تھے وہ تھوڑا بہت پیچھے ہٹنے والے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم داعش کو اچھے طریقے لاک میں بند رکھنا چاہتے ہیں، ہم ان میں سے مزید کو تلاش کریں گے اور ترکی اس کے لییتیار ہے۔امریکی صدر کے اس بیان پر داعش مخالف اتحاد کے سابق نمائندہ خصوصی بریٹ میک گرگ نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کا 2 بچوں کی طرح لڑنے والا بیان بے ہودہ اور جاہلانہ ہے۔سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ2 لاکھ بے گناہ افراد دربدر ہوئے، سینکڑوں ہلاک ہوئے، جنگ جرائم کی معتبر اطلاعات ہیں، داعش کے قیدی فرار ہوگئے، امریکا انخلا کررہا ہے اور اپنی ہی پوزیشنز پر بمباری کررہا یا انہیں روس کے حوالے کررہا ہے اور آپ کہتے ہیں کہ مجمعے میں 2 بچے لڑرہے ہیں۔