
سندھ ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ شاہد خاقان عباسی موجودہ وفاقی حکومت پر کھلم کھلا تنقید کرتے ہیں، ریفرنس بنانے کا مقصد شاہد خاقان عباسی کی زبان بند کرانا ہے۔
سابق ایم ڈی پی ایس او شیخ عمران الحق کی غیر قانونی تعیناتی سے متعلق ریفرنس کے خلاف سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی و دیگر کی درخواست ضمانت پر سندھ ہائی کورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے، جس میں عدالت نے کہا ہے کہ ضمانت قبل از گرفتاری میں یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ تفتیش بدنیتی پر مبنی ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ خواجہ برادران کے کیس میں سپریم کورٹ بھی یہ کہہ چکی ہے کہ نیب صرف یکطرفہ کارروائی کررہا ہے، عدالت نے نیب پراسکیوٹر اور تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ اکثریتی پارٹی کے خلاف اب تک کتنے ریفرنس فائل کئے جاچکے ہیں؟ لیکن نیب حکام اور پراسیکیوٹر اس سوال کا جواب نہیں دے سکتے ہیں۔
تحریری فیصلے میں ہے کہ نیب نے تفتیش میں اس وقت کے وفاقی حکومت کے سربراہ نواز شریف کو شامل نہیں کیا، دلچسپ بات ہے کہ ان الزامات کو ماتحت عدالت میں ریفرنس کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ عدالت نے شاہد خاقان عباسی سمیت تمام ملزمان کی ضمانت میں توثیق کردی۔



