طالبان اور یورپی یونین کے درمیان مذاکرات اگلے ہفتے ہونگے

اوسلو : انسانی حقوق پرطالبان اورمغربی ممالک کے درمیان اجلاس آئندہ ہفتے ناروے میں ہوگا۔غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ناروے کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے طالبان وفدانسانی حقوق پرمذاکرات کے لئے آئندہ اوسلو آئے گا۔انسانی حقوق کی صورتحال پرطالبان کے ساتھ امریکا، برطانیہ، فرانس،اٹلی اوریورپی یونین کے نمائندوں کے مذاکرات متوقع ہیں۔ناروے کی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ طالبان وفد کی ناروے ا?مد کا مقصد یہ نہیں کہ طالبان کوتسلیم کرلیا گیا ہے لیکن جو لوگ ایک ملک چلا رہے ہیں ان سے مذاکرات ہونے چاہئیں۔مذاکرات کے لئے طالبان وفد کی قیادت طالبان حکومت کے قائم مقام وزیرخارجہ امیر اللہ متقی کریں گے۔طالبان نے اوسلو میں متوقع مذاکرات کے حوالے سے امید ظاہر کی ہے کہ یورپی سرزمین پر طالبان کی پہلی باضابطہ بات چیت شمالی اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو)فورسز کے خلاف دو دہائیوں کی شورش کے بعد جنگ کی فضا کو تبدیل کرنے میں مدد کرے گی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ امارت اسلامیہ نے مغربی دنیا کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور ہم تمام ممالک بشمول یورپی ممالک اور عمومی طور پر مغرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو سفارت کاری کے ذریعے مضبوط کرنے کی امید رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ طالبان نے جنگ کی فضا کو پرامن ماحول میں بدلنا چاہتے ہیں۔ طالبان اور مغربی حکام کے مطابق اوسلو میں مذاکرات کا عمل شروع ہوگا جس میں انسانی حقوق سمیت امداد سرگرمیوں سے متعلق امور زیر بحث آئیں گے۔طالبان کے وفد کی سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افغانوں سے بھی ملاقات متوقع ہے، جن میں خواتین رہنما اور صحافی بھی شامل ہیں۔ادھر افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کی جانب سے عالمی برادری سے بار بار مدد کی اپیل اور خوراک اور ادویات کی کمی کے سنگین بحران کے پیدا ہونے کے خدشہ کے پیش نظر امریکی کانگریس نے افغانستان کی مدد کے لیے صدر جوبائیڈن کو خط لکھ دیا۔امریکی کانگریس کے 13 ارکان کی جانب سے صدر جوبائیڈن کو خط لکھا گیا ہے جس میں افغانستان کو انسانی مدد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ افغان عوام کی مدد نہ کی تو افغانستان ایک بار پھر ہمارے دشمنوں کا محفوظ ٹھکانہ نہ بن جائیگی۔




