کیا کیٹ مڈلٹن کا شہزادی ڈیانا سے موازنہ کرنا چاہیے؟

0

نئی پرنسس آف ویلز کی حیثیت سے شہزادہ ولیم کی اہلیہ کیتھرین مڈلٹن کا موازنہ آنجہانی شہزادی ڈیانا سے لامحالہ کیا جا رہا ہے۔ نئی بحث یہ ہے کہ آیا کیٹ ڈیانا کی لافانی میراث کو جاری رکھ پائیں گی جو آج بھی لوگوں کے دلوں پر راج کرتی ہے۔

کینزنگٹن پیلس وہ جگہ ہے جہاں 1992 میں نئے بادشاہ چارلس سوم سے علیحدگی کے بعد ڈیانا نے رہنا جاری رکھا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق لندن میں کینزنگٹن پیلس کے باہرعوام نے کیٹ کو درپیش مشکل کام کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس حوالے سے 73 سالہ کیتھ لوئنگ کا کہنا تھا: ’ڈیانا کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ کیٹ، ڈیانا کی میراث کو برقرار رکھیں گی اور وہ ڈیانا کو شاندار خراجِ تحسین ثابت ہوں گی۔‘

ریٹائرمنٹ کی زندگی گزارنے والے لوئنگ اور ان کی اہلیہ کیتھلین محل کے باغ میں ایک بینچ پر بیٹھے تھے جہاں ڈیانا اور کنگ چارلس کے بیٹوں ولیم اور ہیری نے گذشتہ سال ہی ڈیانا کے مجسمے کی نقاب کشائی کی تھی۔

70 سال تک تاج سر پر سجائے رکھنے والی ملکہ الزبیتھ دوم کی کی موت کے بعد برطانیہ ایک نئے دور میں داخل ہو گیا ہے۔ لیکن چارلس کا بادشاہ بن جانا ایک اورعلامتی تبدیلی بھی ساتھ لایا ہے یعنی 25 سال قبل ڈیانا کی موت کے بعد پہلی پرنسس آف ویلز۔

ڈیانا سے پہلے میری آف ٹیک پرنسس آف ویلز تھیں۔ وہ 1901 سے 1910 تک یہ اعزاز ان کے پاس رہا جب ان کے شوہر جارج پنجم برطانیہ کے بادشاہ بنے۔

پسماندہ افراد کی مدد

برطانیہ کے بادشاہ یا ملکہ کی طرف سے پرنس آف ویلز کا خطاب ان کے سب سے بڑے بیٹے کو دیا جاتا ہے جو زندہ ہوں۔ چارلز کو 1958 میں نو سال کی عمر میں پرنس آف ویلز بنایا گیا تھا۔ انہوں نے بادشاہ کے طور پر اپنے پہلے روز 40 سالہ بیٹے ولیم کو یہ خطاب دیا۔ پرنس آف ویلز کی اہلیہ پرنسس آف ویلز بنتی ہیں۔

شہزادہ چارلس نے جمعے کو کہا: ’میں جانتا ہوں کہ ہمارے نئے پرنس اور پرنسس آف ویلز ہمارے قومی مکالمے کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی اور پسماندہ افراد کو مرکزی مقام دینے میں معاونت جاری رکھیں گے جہاں انہیں ضروری مدد فراہم کی جا سکتی ہے۔‘

2005 میں چارلس کے ساتھ شادی کے بعد ان کی دوسری اہلیہ کمیلا کو پرنسس آف ویلز کا انداز اختیار کرنے کی اجازت دی گئی۔ لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا کیوں کہ یہ خطاب ڈیانا کے ساتھ بہت مضبوطی سے جڑا ہوا تھا۔

ڈیانا نے کمیلا پرکھلے عام الزام لگایا تھا کہ وہ ان کی چارلس کے ساتھ شادی شدہ زندگی میں تیسری شخصیت ہیں۔ کمیلا نے خاوند کا دوسرا خطاب استعمال کیا اور ڈچز آف کورن وال بن گئیں۔

شاہی خاندان پر تبصرہ کرنے والے رچرڈ فٹزولیمز نے اخبار دا گارڈین کو بتایا کہ ’ڈیانا کے ساتھ موازنے کا مسئلہ پیدا نہیں ہوگا کیوں کہ کیٹ، کیملا نہیں ہیں اور معاملات آگے بڑھ چکے ہیں۔‘

احترام کا مقابلہ

ڈیانا برطانیہ اور پوری دنیا میں قابل احترام شخصیت مانی جاتی ہیں۔ 31 اگست 1997 کو پیرس میں کار حادثے میں 36 سال کی عمر میں ڈیانا کی المناک موت نے انہیں وقت میں ایک جگہ منجمد کر دیا اور بہت سے لوگوں کے لیے ایک تقریباً مقدس شخصیت بن گئیں۔

کینزنگٹن پیلس کے باہر ہسپانوی سیاح 21 سالہ ماریا آرگن کا کہنا تھا کہ ’ڈیانا بہت اہم شہزادی تھی اور عوام انہیں بہت پسند کرتے تھے۔ وہ تاج کی اتنی نمائندگی نہیں کرتیں جتنی لوگ کرتے ہیں۔‘

ڈیانا کے نئے مجسمے کے قریب ہی 74 سالہ امریکی سیاح ربیکا برنز وِگ نے شہزادی ڈٰیانا کے انسانی ہمدری کی بنیاد پر کیے گئے بہت دوروں، ان کی ایڈز کے مرض میں مبتلا افراد کے ساتھ وابستگی اور پسماندہ لوگوں کے لیے ان کے جذبات کو یاد کیا۔

2011 میں کیتھرین کی ولیم سے شادی سے بھی پہلے، سوالات کھڑے ہو گئے کہ آیا ان کا موازنہ ڈیانا کے ساتھ کیا جا سکتا ہے جن کی منگنی کی انگوٹھی انہوں نے پہن رکھی ہے۔

شاہی خاندان میں شامل ہونے کے بعد سے کیٹ نے ڈھنگ کا انداز اختیار کیا اور خاندان کی اچھی تصویر پیش کی۔ شہزادہ جارج، لوئس اور شہزادی شارلٹ کی پرورش کے دوران انہوں نے خیراتی مصروفیات کا انتخاب میں احتیاط سے کام لیا۔

فٹزولیم کہتے ہیں: ’کیٹ تیزی سے عملی انداز اختیار کر رہی ہیں اور انہوں نے ابتدائی سالوں کے حالات میں خاص دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اس لیے میرا خیال ہے کہ یہ چاہیں گی وہ اپنے ورثے کے اعتبار سے دکھانا چاہیں گی انہوں نے مختلف کام کیا ہے۔‘

لیکن محل کے ذرائع نے ڈیانا کے ساتھ موازنے کو دبایا۔ ذرائع نے صحافیوں کو بتایا: ’نئی پرنسس آف ویلز اس عہدے کے ساتھ جڑی تاریخ کا احترام کرتی ہیں۔ لیکن اپنے لیے راستہ بناتے ہوئے وہ فہم کے ساتھ مستقبل کی طرف دیکھنا چاہیں گی۔‘

کینزنگٹن پیلس کے باہر بات چیت کرتے ہوئے 40 سالہ وکیل سیلما وائٹ کا کہنا تھا کہ کیتھرین باوقار اور خوبصورت ہیں اور شاہی خاندان کی نمائندگی بھی کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا: ’مجھے ڈیانا سے پیار ہے۔ میں کیٹ سے بھی محبت کرتی ہوں لیکن میں ایسا نہیں سوچتی کہ آپ ان کے درمیان موازنہ کر سکتے ہیں۔ لوگوں کو ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ انہیں کیٹ کو کیٹ بننے کا موقع دینا ہو گا۔‘

مقبولیت

قبل ازیں اس سال کے شروع میں مارکیٹ ریسرچ اور ڈیٹا اینالٹکس فرم ’یوگوو‘ کے ایک سروے میں کیٹ کو 60 فیصد پسندیدگی کے ساتھ شاہی خاندان کی مقبول ترین شخصیت قرار دیا۔ انہیں یہ درجہ ملکہ کے بعد دیا گیا جن کی مقبولیت 75 فیصد تھی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اب وہ شاہی خاندان کی اتنی مقبول شخصیت ہو سکتی ہیں جتنی کبھی ڈیانا ہوا کرتی تھیں۔

شاہی مؤرخ ایڈ اوینز نے چینل 4 ٹیلی ویژن کو بتایا کہ’واضح طور پر توجہ ولیم اور کیتھرین پر ہے۔ پرنس اور پرنسس آف ویلز کی حیثیت سے ہمارے نئے بادشاہ اور ملکہ کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے۔‘

یونیورسٹی کالج لندن کے آئینی ماہر رابرٹ ہیزل کا کہنا ہے کہ کیٹ نجی حیثیت میں پرنس آف ویلز کےعہدے اور تخت کے ’تنہا‘ وارث کے طور پر ولیم کی عمدہ عکاسی کریں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ عوامی سطح پر’نسبتاً جوان شاہی جوڑا شاہی خاندان کی جوان افراد میں مقبولیت برقرار رکھنے کا سبب ہے۔‘

Leave A Reply

Your email address will not be published.