سپریم کورٹ نے پیراگون ہاؤسنگ کیس میں خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کی ضمانت منظور کرلی
اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے پیراگون ہاؤسنگ کیس میں خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی سلمان رفیق کی ضمانت منظور کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا جبکہ عدالت عظمیٰ نے کہاہے کہ نیب عدالت کو مطمئن نہیں کر سکی،ہمیں کوئی ایک چیز تو بتائیں جس سے آپ کے الزمات ثابت ہوں،نیب کوئی ایسی چیز بتائے جس سے ثابت ہو خواجہ برادران کو ضمانت نہ دی جائے، نیب کے پاس ابھی بھی کوئی واضح شواہد موجود نہیں ہیں۔ منگل کو جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی ۔ دوران سماعت خواجہ سعد رفیق کے وکیل امجد پرویز نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ 11-7-2018کودونوں کوگرفتارکیاگیاتھا۔ وکیل امجد پرویز نے کہاکہ کبھی نیب کی طلبی پرغیرحاضرنہیں ہوئے،کبھی بھی کوئی دستاویزپیش کرنیمیں انکارنہیں کیا۔وکیل امجدپرویز نے کہاکہ 30مئی 2019کو6ماہ گرفتاری کیبعدریفرنس داخل کیاگیا،4سمتبر2019کوفرد جرم عائدکیاگیا۔وکیل امجدپرویز نے کہاکہ 122گواہ مقررکیے گئے،صرف 5گواہوں کے بیانات قلمبند ہوئے،پانچواں گواہ وہ شخص ہے جس نے وعدہ معاف گواہ کااسٹیٹمنٹ ریکارڈکیا۔وکیل امجدپرویز نے کہاکہ وفاق نیاس پراعتراض کیاکہ وعدہ معاف گواہ کابیان بھی اسی ریکارڈکرناچاہیے تھا،آج تک تمام پیشیوں پرصرف 2بارالتویٰ مانگا۔وکیل امجدپرویز نے کہاکہ ایک دفعہ تمام دفاع کی ٹیم 23دسمبر2019کوسپریم کورٹ میں اسی کیس پرضمانت کی درخواست میں پیش تھی۔وکیل امجدپرویز نے کہاکہ اور ایک مرتبہ لاہورہائی کورٹ میں متعددکیسوں میں پیش ہونے کی وجہ سے نیب کورٹ سے التوا لیا۔ وکیل امجید پرویز نے کہاکہ ایک درخواست گزاررکن قومی اسمبلی اور ایک رکن صوبائی اسمبلی ہے،سعدرفیق سابق وفاقی وزیرجبکہ خواجہ سلمان رفیق سابق صوبائی وزیرہیں۔ انہوںنے کہاکہ ان کی گرفتاری کو16ماہ گزرچکے ہیں۔ وکیل نے کہاکہ دونوں کے حلقے کے عوام اپنے نمائندوں کے میسرہونے سے محروم ہیں۔ وکیل امجید نے کہاکہ کل ممبران کی تعداد8ہزارہے،یہ سوسائٹی 2003سے چل رہی ہے۔ وکیل نے کہاکہ متاثرہ ممبران کی تعداد68ہے،یہ سوسائٹی تین موضہ جات پرمشتمل ہے۔ جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ کیاآپ یہ بات ثابت کرسکتے ہیں شاملات کی علاوہ سوسائٹی کے پاس مسجد اورپارکس اور عوامی فلاح کیلئے کوئی جگہ موجودہے۔جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ اس سوسائٹی کاپلان کس نے منظورکیا؟۔وکیل امجید پرویز نے کہاکہ یہ سوسائٹی ٹی ایم ایسے منظورشدہ ہے۔ وکیل امجد پرویز نے کہاکہ 2005میں اس کی منظوری ٹی ایم اے سے لی گئی۔وکیل نے کہاکہ ایل ڈی اے2013میں اس علاقے میں پہنچا۔ جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ کیااراضی کے تبادلوں کاالزام بھی ہے؟سوسائٹی میں شاملات کی اراضی کتنی ہے؟۔ وکیل امجد پرویز نے کہاکہ 7200کنال کی اراضی میں صرف 39کنال شاملات میں شامل ہے۔جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ اس کیس میں اراضی کے تبادلے کابھی الزام ہے۔ وکیل نے کہاکہ حقیقت یہ ہے کہ 40کنال کی سوسائٹی میں 40کنال کیاراضی حوض سوسائٹی نے50کنال فی مرلہ اراضی دی۔وکیل نے کہاکہ 50کنال تین مرلیاراضی کے علاوہ پلاٹ بنانے کے ترقیاتی چارجزبھی اداکیے گئے۔ وکیل امجدپرویز نے کہاکہ چیئرمین نیب نے2قیصرامین بٹ کو2دفعہ معافی دی ہے،قیصرامین بٹ کوپہلی معافی 23-11-2018کودی گئی۔ وکیل نے کہا کہ اس کے بعدانہوں نے مجسٹریٹ کے سامنے بیان دیا۔ امجد پرویز نے کہاکہ وہ استغاثہ سوٹ نہیں کرتاتھا۔چیئرمین نیب نے پہلی معافی کو26-11-2018کوواپس لے لیا۔ امجد پرویزنے کہاکہ دوسری معافی 5دسمبر2018کودی گئی،کسی بھی جگہ قیصرامین بٹ کاریمانڈنہیں لیاگیا۔وکیل امجد پرویز نے کہاکہ خواجہ سعدرفیق نے سوسائٹی سے کل58ملین جبکہ سلمان رفیق نے39ملین وصول کیے۔وکیل نے کہاکہ دونوں نے بنکنگ چینل سیرقوم وصول کیے۔ وکیل امجد پرویز نے کہاکہ امجدپرویزپیراگون ہاؤسنگ کے10سے زیادہ رجسٹرڈاسٹیٹ ایجنٹ ہیں۔ وکیل امجد نے کہاکہ یہ ساری رقوم ٹیکس ریٹرن میں اورالیکشن کمیشن میں دائرشدہ ہے۔ وکیل سٹار مارکیٹنگ جوباتیں عدالت کے سامنے کی گئی اس میں سے کچھ بھی نیب سے مخفی نہیں رکھاگیا ۔ وکیل نے کہاکہ ایک معروف کمپنی ہے وہ بھی پیراگون کیساتھ منسلک ہے۔وکیل نے کہاکہ تحریری طورپرنیب کویہ تمام باتیں دی گئی ہیں۔ جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ اس کوکس قانون کے تحت معافی ملی؟۔ وکیل نے کہاکہ 16سال کے عرصے میں نیب کے پاس بیضابطگی کے بجائے ایک وعدہ معاف گواہ کابیان ہے۔ جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ کیایہ گواہ بھی سوسائٹی کاشیئرہولڈرہے؟۔امجد پرویز نے کہاکہ چیئرمین نیب نے نیب آرڈیننس کے سیکشن 26کے تحت معافی دی۔وکیل خواجہ برادران نے کہاکہ ایل ڈی اے کے ریکارڈ میں مقدمہ غیر قانونی اختیارات کا ہے۔ وکیل خواجہ برادران نے کہاکہ نیب کی جانب سے انکوائری کے دوران تین خطوط سامنے لائے گئے،پیراگون سوسائٹی کی حد تک یہ خطوط جھوٹے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ لوکل گورنمنٹ نے 2013 میں ایل ڈی کو اختیارات میں توسیع دینا تھی، پیراگون سوسائٹی میں ایمپریل گارڈن کے نام سے بلاک تھا۔وکیل خواجہ برادران نے کہاکہ 2006 سے جوڈیشل سائٹ پر معاملہ چل رہا تھا اور پیراگون کیس جیت چکا ہے۔نیب کے وکیل جہانزیب بھروانا نے بھی دلائل دیئے ۔عدالتی ریمارکس پر نیب کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ بیان ریکارڈ کے بعد خواجہ برادران جیل میں نہیں تھے اس پر جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہا کہ یہ کیسی بات کر رہے ہیں بھروانا صاحب، ضمانت پر تو نہیں تھے۔دلائل سننے کے بعد عدالت عظمیٰ نے خواجہ سعد رفیق اور اور سلمان رفیق کی ضمانت منظورکرلی ۔عدالت عظمیٰ نے تیس تیس لاک کے مچلکے جمع کرنے ہدایت کی ۔جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ لگتا ہے نیت اور ہلیت دونوں کا فقدان ہے۔سپریم کورٹ نے لاہور رہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے کہاکہ نیب عدالت کو مطمئن نہیں کر سکی۔ جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ ہمیں کوئی ایک چیز تو بتائیں جس سے آپ کے الزمات ثابت ہوں۔جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ خواجہ برادران نے ٹرائل کے دوران بیان ریکارڈ کرانے میں نیب کے ساتھ تعاون کیا، کیس میں کوئی التوا نہیں مانگا گیا۔جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ نیب کوئی ایسی چیز بتائے جس سے ثابت ہو کہ خواجہ برادران کو ضمانت نہ دی جائے۔ جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ یہ نیب کی نیت کا مسئلہ ہے یا تو اہلیت کا،نیب کے پاس ابھی بھی کوئی واضح شواہد موجود نہیں ہیں۔جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ جب پلان کی منظوری ٹی ایم اے نے دی تو کوئی جواز ہی نہیں بنتا۔ انہوںنے کہاکہ نیب کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس کی وجہ سے اب خواجہ برادران کو حراست میں رکھا جائے۔