
بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک بار پھر بین الاقوامی فورم پر اس وقت شدید کشیدگی دیکھنے کو ملی جب بھارتی وفد نے پاکستان کے نئے نقشے کے خلاف بطور احتجاج شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی ایک میٹنگ سے واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ روس کی قیادت میں شنگھائی تعاون تنظیم کی میٹنگ میں رکن ممالک کے قومی سلامتی کے مشیر شامل تھے۔
کورونا وائرس کی وبا کے پیش نظرویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ہونے والی اس میٹنگ میں پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے قومی سلامتی سے متعلق مشیر خصوصی معید یوسف نے بیک ڈراپ کے طور پر وہ نیا نقشہ استعمال کیا جس میں بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے متنازعہ خطے کو بھی پاکستان کا علاقہ قرار دیا گیا ہے۔ تومیٹنگ کے دوران بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے اسے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔
لیکن جب پاکستان نے اس نقشے کو اپنے بیک ڈراپ سے ہٹانے سے منع کردیا تو بھارتی وفد نے میزبان ملک روس سے اس کی شکایت اور پھر بطور احتجاج میٹنگ میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا۔
بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ سری واستوا نے اس سلسلے میں ایک بیان جاری کر کے کہا کہ شنگھائی کوآپریشن تنظیم کے رکن ممالک کے قومی سلامتی کی مشیروں کی میٹنگ روس کی سربراہی میں ہو رہی تھی۔ ”اس میں پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر نے دانستہ طور پر اس افسانوی نقشے کو پروجیکٹ کرنے کی کوشش کی جس کا حالیہ دنوں سے وہ پروپیگنڈہ کرتے رہے ہیں۔ میزبان ملک کی جانب میٹنگ کے اصول و ضوابط کے تعلق سے جو ایڈوائزری جاری کی گئی تھی یہ اس کی صریحاًخلاف ورزی تھی اسی لیے اس پر اعتراض کیا گیا۔”
اس میٹنگ کی صدارت روس کے قومی سلامتی کے مشیر نکولائی پیترشیوؤف کر رہے تھے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا، ”میزبان ملک کے ساتھ اس معاملے پر صلاح و مشورہ کرنے کے بعد بھارتی وفد نے بطور احتجاج اسی مرحلے پر میٹنگ چھوڑی دی۔ پھر جیسا کہ ہمیں توقع تھی پاکستان نے اس میٹنگ سے متعلق گمراہ کن نظریات پیش کیے۔”
دوسری جانب پاکستان کی حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف نے اسے شنگھائی تعاون تنظیم میں پاکستانی موقف کی یہ کہہ کر جیت قرار دیا کہ تنظیم کی جانب سے بھارتی اعتراضات کو تسلیم نہیں کیاگیا اور بھارت کے پرجوش جھوٹے دعوں کو مسترد کر دیا گیا۔ پارٹی نے اس سلسلے میں اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا، ”ایس سی او نے پاکستانی موقف سے اتفاق کیا اور ڈاکٹر معید یوسف پاکستان کے نئے نقشے کے ساتھ میٹنگ میں شریک ہوئے۔”



