ادلب کے محاذ نے روس اور ترکی کو ایک دوسرے کے مقابل میں لا کھڑا کردیا‘ فضائی دفاعی سسٹم ایس 400 خطرے میں پڑ گیا

0 31

انقرہ (این این آئی) ادلب کے محاذ نے روس اور ترکی کو ایک دوسرے کے مقابل میں لا کھڑا کیا ہے۔ فضائی دفاعی سسٹم ایس 400 خطرے میں پڑ گیا‘ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاووش اوگلو نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ شام کے علاقے ادلب میں انقرہ اور ماسکو کے درمیان پائے جانے والے اختلافات سے دونوں ملکوںکے درمیان طے پائی دفاعی ڈیل ایس 400 کے لیے نقصان دہ نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس 400 دفاعی ڈیل دونوںملکوں کے درمیان ایک اہم معاہدہ ہے اور شام میں جاری کشیدگی کی وجہ سے اس میں رکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔خیال رہے کہ ترکی نے گذشتہ برس روس سے اس کا مشہور فضائی دفاعی سسٹم ایس 400 خرید کیا۔ امریکا نے اس ڈیل کی بھرپور مخالفت کی حتیٰ کہ ترکی کے ساتھ ایف 17 طیاروں کی ایک ڈیل منسوخ کی اور ترکی پرپابندیاںبھی عاید کیں مگر اس کے باوجود ترکی روس سے اس دفاعی نظام کی خریداری سے باز نہیں آیا۔ترک وزیر خارجہ نے اعتراف کیا کہ شام میں جاری لڑائی کے معاملے پر روس اور ترکی کے درمیان اختلافات موجود ہیں مگر وہ توقع رکھتے ہیں کہ روس کے ساتھ یہ اختلافات دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی ڈیل ایس 400 پر منفی اثرات نہیں ڈالیں گے۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ شام میں جاری کشیدگی میں ترکی اور روس ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے ہیں۔ دونوں میں شدید اختلاف رائے ہے مگر دونوں ملکوںمیں ایس 400 دفاعی ڈایل کو متاثر نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ترکی نے یہ ڈیل امریکا کی سخت مخالفت کے باوجود ماسکو کے ساتھ کی ہے۔خبر رساں ایجنسی ٹاس کے مطابق میونخ میں منعقدہ سلامتی کانفرنس میں شرکت کے بعد روسی وزیر خارجہ نے اپنے ترک ہم منصب سیرگئی لافروف سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں انہوںنے کہا کہ شام میں دونوںملکوں میں اختلاف رائے کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان بنیادی اصولوں اور پالیسیوں پر کوئی اختلاف نہیں۔ شام میں درپیش مسائل کو ہمارے باہمی تعاون کے لیے ضرور رساں نہیں ہونا چاہیے۔خیال رہے کہ شام کے علاقے ادلب میں ترک فوج کی مداخلت کے بعد ایک طرف شام اور روس کھڑے ہیں اور دوسری طرف ترک صدر رجب طیب ایردوآن شامی اپوزیشن گروپوںمیں مدد کر رہے ہیں۔ ادلب کے محاذ نے روس اور ترکی کو ایک دوسرے کے مقابل میں لا کھڑا کیا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.