پاکستان امداد پر انحصار کی بجائے پائیدار معاشی ترقی اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کے لیے تجارت اور سرمایہ کاری کو مرکزی حیثیت دے رہا ہے، وفاقی وزیر خزانہ کا سی این این بزنس عریبک کو انٹرویو

24

اسلام آباد۔15دسمبر :وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات، سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان اب امداد پر انحصار کرنے کے بجائے پائیدار معاشی ترقی اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کے لیے تجارت اور سرمایہ کاری کو مرکزی حیثیت دے رہا ہے، اور اسی حکمتِ عملی کے تحت بین الاقوامی شراکت داروں، بالخصوص خلیجی ممالک کے ساتھ اقتصادی روابط کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔سی این این بزنس عریبک کو انٹرویو میں وفاقی وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ وزیرِ اعظم کی جانب سے بیان کردہ یہ اسٹریٹجک سمت پاکستان کے معاشی اعتماد اور اصلاحاتی پیش رفت کی عکاس ہے۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ گزشتہ 18 ماہ کے دوران پاکستان ایک جامع میکرو اکنامک استحکام پروگرام پر کاربند رہا ہے جس کے نتیجے میں نمایاں اور قابل پیمائش کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ مہنگائی، جو ایک موقع پر ریکارڈ 38 فیصد تک پہنچ گئی تھی، اب کم ہو کر سنگل ڈیجٹ سطح پر آ چکی ہے۔ مالیاتی محاذ پر پاکستان نے پرائمری سرپلس حاصل کیے ہیں جبکہ کرنٹ اکا نٹ خسارہ مقررہ اہداف کے اندر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زرِ مبادلہ کی شرح میں استحکام آیا ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہو کر تقریباً 2.5 ماہ کی درآمدات کے مساوی ہو گئے ہیں، جو بیرونی مالیاتی استحکام کی علامت ہے۔وفاقی وزیر خزانہ نے پاکستان کی بہتر ہوتی ہوئی معاشی صورتحال کی دو بڑی بین الاقوامی کامیابیوں کا ذکر کیا۔ پہلی یہ کہ رواں سال تینوں عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی ریٹنگ اور آ ٹ لک میں بہتری کی ہے۔ دوسری یہ کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی کے تحت دوسرے جائزے کو کامیابی سے مکمل کیا ہے، جس کی منظوری رواں ہفتے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے دی۔ ان پیش رفتوں سے عالمی سطح پر پاکستان کی معاشی پالیسیوں اور اصلاحاتی سمت پر بڑھتے ہوئے اعتماد کا اظہار ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ میکرو اکنامک استحکام مربوط حکمتِ عملی کے تحت حاصل کیا گیا ہے جس میں سخت مالیاتی و مالی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ جامع ساختی اصلاحات شامل ہیں۔ ٹیکس نظام، توانائی، سرکاری اداروں، عوامی مالیاتی نظم و نسق اور نجکاری جیسے اہم شعبوں میں اصلاحات پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے تاکہ استحکام کو مستحکم کرتے ہوئے پائیدار ترقی کی بنیاد رکھی جا سکے۔ٹیکس اصلاحات کے حوالے سے سینیٹر اورنگزیب نے بتایا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح، جو اصلاحاتی پروگرام کے آغاز پر 8.8 فیصد تھی، گزشتہ مالی سال میں بڑھ کر 10.3 فیصد ہو گئی ہے اور 11 فیصد تک پہنچنے کی واضح سمت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد درمیانی اور طویل مدت میں مالیاتی پائیداری کے لیے مناسب سطح تک ٹیکس وصولیوں میں اضافہ کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے رئیل اسٹیٹ، زراعت، ہول سیل اور ریٹیل جیسے کم ٹیکس ادا کرنے والے مگر معاشی طور پر اہم شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جا رہا ہے، جبکہ پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹمز اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹیکس چوری اور لیکیجز کم کی جا رہی ہیں۔ ساتھ ہی ٹیکس انتظامیہ میں افرادی قوت، طریقہ کار اور ٹیکنالوجی کی سطح پر اصلاحات کی جا رہی ہیں۔توانائی کے شعبے میں وفاقی وزیر خزانہ نے تقسیم کار کمپنیوں میں گورننس کی بہتری، نجی شعبے کی شمولیت، نجکاری کے عمل کو آگے بڑھانے اور گردشی قرضے میں کمی کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیرف نظام میں معقولیت لانا صنعت کے لیے توانائی کو مسابقتی بنانے کے لیے ناگزیر ہے، جس سے صنعتی بحالی اور معاشی ترقی ممکن ہو سکے گی۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر سمیت خلیجی ممالک کی طویل المدتی معاونت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے فنانسنگ، فنڈنگ اور آئی ایم ایف جیسے بین الاقوامی مالیاتی اداروں میں تعاون کے ذریعے پاکستان کی اہم مدد کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ تعلق ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جس کا مرکز تجارت کے فروغ اور سرمایہ کاری کے بہا  پر ہے۔ ترسیلاتِ زر کرنٹ اکا نٹ کے لیے نہایت اہم کردار ادا کر رہی ہیں، جو گزشتہ سال تقریباً 38 ارب ڈالر رہیں اور رواں سال 41 سے 42 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جن میں سے نصف سے زائد خلیجی ممالک سے آتی ہیں۔آئندہ کے حوالے سے وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان توانائی، تیل و گیس، معدنیات و کان کنی، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، فارماسیوٹیکلز اور زراعت جیسے ترجیحی شعبوں میں خلیجی شراکت داروں سے سرمایہ کاری کے لیے سرگرم عمل ہے۔ انہوں نے خلیج تعاون کونسل کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے پر پیش رفت کے حوالے سے بھی امید کا اظہار کیا اور کہا کہ بات چیت آخری مراحل میں ہے۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے اس امر کا اعادہ کیا کہ پاکستان کا مستقبل امداد پر انحصار کے بجائے تجارت اور سرمایہ کاری پر مبنی شراکت داریوں میں مضمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیداواری شعبوں میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری سے جی ڈی پی میں اضافہ، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور پاکستان اور اس کے شراکت داروں کے لیے مشترکہ معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت اس وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مکمل طور پر متحرک ہے

Comments are closed.