وہ ریکارڈ جن کی وجہ سے یہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ یاد رہے گا

0 32

متحدہ عرب امارات اور عمان میں ہونے والا ساتواں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ آسٹریلیا کی جیت کے ساتھ اختتام پذیر ہو چکا ہے لیکن ایک ماہ سے کچھ دن کم تک جاری رہنے والا یہ عالمی مقابلہ کئی باتوں کی وجہ سے شائقین کو عرصے تک یاد رہے گا۔

آئیے ان ریکارڈز پر نظر ڈالتے ہیں جو اس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے درمیان بنے۔

محمد رضوان اور بابراعظم کے ریکارڈز

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر اوپنر محمد رضوان کی کارکردگی اس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بہت اچھی رہی اور انھوں نے متعدد نئے ریکارڈز بھی قائم کیے۔

محمد رضوان انٹرنیشنل ٹی ٹوئنٹی سمیت اس فارمیٹ کے تمام میچوں میں ایک کیلنڈر سال میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین بن گئے ہیں۔

اس سے قبل ایک کیلنڈر سال میں سب سے زیادہ ٹی ٹوئنٹی رنز بنانے کا عالمی ریکارڈ کرس گیل کا تھا جنھوں نے سنہ 2015 میں 36 میچوں کی 36 اننگز میں 1665 رنز بنائے تھے۔

اب یہ ریکارڈ محمد رضوان کے نام ہو چکا ہے جو اس سال کھیلے گئے 42 میچوں کی 39 اننگز میں 1743 رنز بنا چکے ہیں اور اس کے بعد اب وہ بنگلہ دیش کے خلاف بھی سیریز میں پاکستانی ٹیم کا حصہ ہیں۔

محمد رضوان نے صرف ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں بھی ایک کیلنڈر سال میں ایک ہزار رنز بنانے والے پہلے بیٹسمین ہونے کا منفرد اعزاز بھی حاصل کر لیا۔

اس سال اب تک ان کے 23 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں بنائے گئے رنز کی تعداد 1033 تک پہنچ چکی ہے جن میں ایک سنچری اور دس نصف سنچریاں شامل ہیں۔

رضوان کے اوپننگ پارٹنر اور پاکستانی کپتان بابراعظم بھی پیچھے نہیں رہے۔ رواں برس ان کے ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں 40 میچوں کی 37 اننگز میں 1666 رنز ہو چکے ہیں اور وہ ایک سال میں سب سے زیادہ رنز بنانے والوں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر آ چکے ہیں۔

انٹرنیشنل ٹی ٹوئنٹی میں بابراعظم نے اب تک 826 رنز بنا رکھے ہیں۔

ایک کیلنڈر سال میں اس سے قبل سب سے زیادہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل رنز کا ریکارڈ آئرلینڈ کے پال سٹرلنگ کا تھا جنھوں نے سنہ 2019 میں 748 رنز سکور کیے تھے۔

سب سے زیادہ سنچری پارٹنرشپس

بابراعظم اور محمد رضوان اب تک ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں پانچ سنچری شراکتیں قائم کر چکے ہیں جو ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں کسی بھی جوڑی کی سب سے زیادہ سنچری شراکتیں ہیں۔

بابر اور رضوان کی ان سنچری پارٹنر شپ میں سے چار پہلی وکٹ کے لیے ہیں جبکہ ایک سنچری پارٹنرشپ انھوں نے دوسری وکٹ کے لیے قائم کی۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان دونوں نے یہ تمام سنچری شراکتیں اسی سال قائم کی ہیں جن میں سے دو اس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بنی ہیں۔

انڈیا کے روہت شرما اور لوکیش راہل، نیوزی لینڈ کے کین ولیم سن اور مارٹن گپٹل اور انڈیا کے روہت شرما اور شکھر دھون یہ وہ تین جوڑیاں ہیں جنھوں نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں چار چار سنچری پارٹنرشپس بنائی ہیں۔

ویسٹ انڈیز کا زوال

ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم دفاعی فاتح کی حیثیت سے اس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں آئی تھی لیکن اس ٹورنامنٹ میں ناقص کارکردگی کے باعث اب اگلے سال وہ آسٹریلیا میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں کوالیفائنگ راؤنڈ کھیلے گی۔

ویسٹ انڈیز کی ٹیم اپنے گروپ کے پانچ میچوں میں سے صرف ایک میں کامیابی حاصل کر سکی اور چار میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

انگلینڈ کے خلاف میچ میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم صرف 55 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی جو انٹرنیشنل ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں اس کا دوسرا سب سے کم سکور ہے۔

ویسٹ انڈیز کی ٹیم اپنے جن تجربہ کار کھلاڑیوں پر انحصار کر رہی تھی وہی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہے۔

کرس گیل پانچ میچوں میں صرف 45 رنز بنا سکے جن میں ان کا بہترین انفرادی سکور 15 تھا۔

جب رنز ہی نہیں بنے تو چھکے بھی کہاں سے آتے؟ پورے ٹورنامنٹ میں ان کے نام کے آگے صرف تین چھکے درج ہوئے۔

’یونیورس باس‘ کے نام سے مشہور کرس گیل کی یہ مایوس کن کارکردگی سب کے لیے حیران کن تھی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.