پاک افغان بارڈر (باب دوستی) کی بندش سے چمن قلعہ عبداللہ کے عوام نان شبینہ کے محتاج ہو گئے.چمن مصالحتی جرگہ

0 36

اموال کی نقل و حمل کی راہ میں رکاوٹوں سے افغان ٹرانزٹ کی بندرعباس. چاہبا (ایران) مکمل منتقلی تشویش ناک اور سوالیہ نشان ہے. مولانا مفتی محمد قاسم مسافروں کو باقاعدہ دعوت پہ بلانے کے بعد بندش کے بہانے خطرناک ہجوم اکٹھا کرنے کی بجائے باعزت جانے دیا جائے۔ مصالحتی جرگہ کا ہنگامی اجلاس گذشتہ دن حاجی عبدالباری ادرکزئ کنوینر رابطہ کمیٹی کے رھائشگاہ پر منعقد ہوا. جس میں جرگہ ممبران (علمائے کرام. سادات. قبائلی مشران. تاجران.)کے ساتھ ساتھ چمن قلعہ عبداللہ کے ہر مکتب فکر کے افرادنے شرکت کی جس میں شھید اسلام مولانا محمد حنیف ؒ کے جانشین اور جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رھنماء مولانا مفتی محمد قاسم ، حاجی عبدالباری ادرکزئ، حاجی عبدالقیوم جان آکا،مولانا حافظ عبدالسلام صاحب، حافظ محمد یوسف، حاجی مجاہد خان، حاجی شیر خان ،مولانا محمد میر. حاجی فتح محمد خان کاکوزی. حاجی اللہ محمد سایل. حاجی فیض اللہ شکر زئ ، حاجی اللہ محمد صالحزئ. حاجی محمد صدیق اچکزئ. حاجی سلیمان ادرک زئ. حاجی احمد اللہ. حاجی محمد انور. حاجی محمد نعیم عشیزئ. حاجی بصیر صراف و دیگر نے شرکت کی . اس اجلاس میں چمن قلعہ عبداللہ کے امن وامان،چمن بارڈر (باب دوستی) کی بندش .افغان ٹرانزٹ کی (چابہا ایران منتقلی) بےروزگاری. اور چمن عوام کی احتجاجی دھرنا (جو غالباً ایک ہفتے) سے جاری ہے. زیر بحث آئی.
اجلاس میں سب سے پہلے تجارت ایکسپورٹ. و ٹرانزٹ اموال کی ترسیل میں سستی. اور مسافروں کی (آمد و رفت ) کی راہ میں رکاوٹیں اور مبینہ انسانیت کی تذلیل. یاد رہے کہ ان مسافروں کو باقاعدہ اعلانات کے زریعے دعوت دے کر بلایا جانے کے بعد جانے نہ دینا. اور ہزاروں کی تعداد میں جمگھٹا اعلان کے باوجود دروازے کی نہ کھلنے کی وجہ سے ان گرمی میں اہک جال کے اندر ہزاروں افراد جن میں خواتین بچے بوڑھے مریض جمع ہو کر تزلیل کے حد تک مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں. اور ان حالات میں کرونا وائرس کے شکار کاخطرے کو نظرانداز کرنے اور اطلاع کے مطابق ایک دن میں گرمی سےبچوں سمیت چار پانچ افراد کی اموات پر تشویش کا اظہار کیا.تجارت کی راہ میں رکاوٹوں سے تجارتی سسٹم میں خلل کو نظرانداز کرنا (یعنی طلب و رسد ) امپورٹ ایکسپورٹ. یاد رہے کہ ایکسپورٹ کی جزوی بحالی اور امپورٹ کی بندش کی وجہ سے ادائیگی کی مد میں مکمل کمی آگئی. افغان ٹرانزٹ کی راہ میں حائل رکاوٹوں کی وجہ سے بندر عباس اور )چابہا ایران منتقلی) پر تشویشناک صورتحال. اس سلسلے میں اجلاس میں فیصلہ کے مطابق حکومت سے اموال کی نقل و حمل میں تیزی اور امپورٹ کو فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا.
اور حکومت کے ارباب اختیار کو تجویز دی کہ ان درج ذیل مشکلات کو حل کرنے کے سلسلے میں علاقے کے سینئر تاجر. و قبائل کو ساتھ لے کر ان کی مدد و تجاویز سے انشاءاللہ ان تمام مشکلات پر قابو پا سکتے ہیں.اجلاس ختم ہونے کے بعد ممبران دھرنہ کیمپ میں گےء. وہاں دھرنے کے رہنماؤں (آل پارٹیز) سے ملاقات کی. اور خطاب میں کہا کہ چمن پاک افغان بارڈر کی بندش سے نہ صرف ہم سب اہلیانِ چمن قلعہ عبداللہ نان شبینے کے محتاج ہوئے. اس کے اثرات پورے بلوچستان بلکہ پاکستان پر پڑے گا. اور یقین دلایا کہ ہم آپ کے پرامن احتجاج اور جدوجہد کے ساتھ اتفاق رکھتے ہیں. اور جرگے نے ہر قسم کی قانونی و ثالثی مدد اور قانونی مطالبات کو حکام بالا. اور سیاسی مزہبی قیادت تک پہنچانے کی کوشش کریں گے. ور امید رکھتے ہیں کہ دھرنہ اسی طرح آیندہ بھی پرامن رہے گا
اس کے بعد جرگے ممبران خصوصی دعوت پر حاجی شیر خان کے رہائش گاہ پر عشائیہ میں شرکت کی.

Leave A Reply

Your email address will not be published.