جو بائیڈن کی صدارتی جیت کی تصدیق کے لیے امریکی الیکٹورل کالج آج ووٹ ڈالے گا
رائے دہندگان امریکا کے دارالحکومتوں میں آج جو بائیڈن کو اگلا امریکی صدر منتخب کرنے کے لیے باضابطہ ووٹ دیں گے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ہر ریاست کی ووٹنگ امریکا کی روایت میں سے ہے جو رواں سال قوم کے جمہوری عمل پر ٹرمپ کے غیرمعمولی حملے کی روشنی میں غیر معمولی اہمیت حاصل کرگئی ہے۔
بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کے جھوٹے دعوؤں کو آگے بڑھاتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاستی عہدیداروں پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ انتخابی نتائج کو ختم کریں اور انہیں فاتح قرار دیں۔
امریکا ایک امیدوار قومی مقبول ووٹ کی اکثریت حاصل کرکے نہیں بلکہ الیکٹورل کالج سسٹم کے ذریعہ صدر بنتا ہے جہاں 50 ریاستوں اور ڈسٹرکٹ کولمبیا کو ان کی آبادی کی بنیاد پر الیکٹورل ووٹ میں فراہم کرتا ہے۔
انتخابی نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈیموکریٹک سابق نائب صدر جو بائیڈن نے دستیاب 538 انتخابی ووٹوں میں سے 306 میں کامیابی حاصل کی۔
یہ ضروری 270 ووٹوں سے زیادہ ہے جبکہ ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے 232 ووٹ حاصل کیے ہیں۔
لینسنگ، مشی گن ہیرس برگ، پنسلوانیا،اٹلانٹا، جارجیا، میں پارٹی رہنما باضابطہ طور پر ووٹ ڈالنے کے لیے اکٹھے ہوں گے۔
تاہم بعض اوقات مٹھی بھر لوگ اپنی ریاست کے مقبول ووٹ کے فاتح کے علاوہ کسی اور کو ووٹ دیتے ہیں تاہم اکثریت اپنی ریاست کے نتائج کے مطابق ہی ووٹ ڈالتے ہیں۔
عہدیداروں کا کہنا ہے کہ پیر کے روز کچھ مختلف ہونے کی توقع نہیں ہے۔
ٹرمپ نے ریپبلکن ریاستی قانون سازوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ووٹرز کی خواہشات کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے الیکٹرز تعینات کریں تاہم بڑے پیمانے پر ریاستی قانون سازوں نے اس خیال کو مسترد کردیا ہے۔
پیر کو ڈالے گئے ووٹوں کو سرکاری طور پر 6 جنوری کو گننے کے لیے کانگریس کو بھیجا جائے گا جو امریکا کے پیچیدہ انتخابی عمل کا آخری مرحلہ ہے۔
ٹرمپ نے گزشتہ ماہ کے آخر میں کہا تھا کہ اگر الیکٹورل کالج نے جو بائیڈن کو ووٹ دیا تو وہ وائٹ ہاؤس چھوڑ دیں گے تاہم اس کے بعد انہوں نے اپنی شکست کو ختم کرنے کے لیے اپنی بے مثال مہم پر زور دیا ہے اور کامیابی نہ ملنے پر ریاست کے ووٹوں کی گنتی کے عمل کے خلاف متعدد مقدمات دائر کیے ہیں۔
امریکی سپریم کورٹ کورٹ نے ٹیکساس کی جانب سے دائر مقدمے کو مسترد کردیا جس میں چار ریاستوں کے نتائج کو مسترد کرنے کی کوشش کی گئی تھی جہاں جو بائیڈن کامیاب ہوئے تھے۔