وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک کی زیر صدارت سائٹس مینجمنٹ اتھارٹی کا اجلاس, ٹرافی ہنٹنگ کوٹہ 2025–26 کے تعین پر مشاورت

21

اسلام آباد، 14 نومبر 2025:

 وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی، سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک نے آج سائٹس (CITES) مینجمنٹ اتھارٹی پاکستان کے اجلاس کی صدارت کی، جس میں شکار کے لیے ٹرافی کوٹہ 2025–2026 کے لیے تجاویز کا جائزہ لیا گیا اور اس سلسلے میں آئندہ حکمتِ عملی مرتب کی گئی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر نے زور دیا کہ ٹرافی ہنٹنگ کوٹہ کی منظوری سائٹس کے تحفظاتی اصولوں کے مطابق ہونی چاہیے اور کسی بھی جنس کی کل آبادی کے 2 فیصد سے زیادہ کوٹہ الاٹ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اس بات پر خاص زور دیا کہ تمام فیصلے باقاعدہ اور سائنسی بنیادوں پر کی جانے والی آبادیاتی سرویز کی روشنی میں کیے جائیں تاکہ جنگلی حیات کے تحفظ اور پائیدار انتظام کو یقینی بنایا جا سکے۔

اجلاس میں اس امر پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی کہ صرف آبادی کی تعداد ہی نہیں بلکہ مختلف علاقوں میں موجود اقسام کی سماجی ساخت، گروہی نظام اور تولیدی حرکیات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ وزیر نے نشاندہی کی کہ سماجی ڈھانچے میں بے احتیاط مداخلت افزائش، گروہی استحکام اور آبادی کے پھیلاؤ پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔

اس سلسلے میں وزیر نے ہدایت کی کہ صوبائی وائلڈ لائف محکموں کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ تحقیقی منصوبہ تیار کیا جائے، جس میں آبادی اور سماجی ساخت دونوں کا مطالعہ شامل ہو، اور ٹرافی ہنٹنگ کے لیے سائنسی بنیادوں پر بہترین طریقہ کار مرتب کیے جائیں۔

وزیر نے مزید ہدایت کی کہ حالیہ سرویز کے تجزیاتی اعداد و شمار دو روز کے اندر جمع کرائے جائیں۔ جن صوبوں نے رواں سال کے سرویز ابھی تک جمع نہیں کروائے، انہیں عارضی طور پر گذشتہ سال کا کوٹہ برقرار رکھا جائے گا۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے واضح ہدایات جاری کیں کہ آئندہ سال سے جو صوبے اپنے سالانہ سروے جمع نہیں کروائیں گے، انہیں ٹرافی ہنٹنگ کا کوئی کوٹہ الاٹ نہیں کیا جائے گا۔ یہ اقدام جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

اجلاس میں پنجاب، خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے وائلڈ لائف اور فاریسٹ ڈیپارٹمنٹس کے نمائندگان کے ساتھ ساتھ زولوجیکل سروے آف پاکستان کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

Comments are closed.