خضدار میں گرانفروشی اور ملاوٹ مافیا بے لگام — عوام کی صحت سنگین خطرات سے دوچار
رپورٹ: دانش مینگل
خضدار — شہر میں گرانفروشی اور ملاوٹ شدہ اشیائے خوردونوش کی بڑھتی ہوئی شکایات نے عوام میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق چند بااثر ڈیلر اور فیکٹری مالکان طویل عرصے سے غیر معیاری، مضرِ صحت اور جعلی اشیاء کھلے عام فروخت کر رہے ہیں۔
یہ خطرناک دھندا مختلف مصالحہ جات، یوریا کھاد اور پاؤڈر نما غیر خوراکی مواد کو ملانے کے بعد عام غذائی اجناس کے طور پر مارکیٹ میں بیچنے سے متعلق ہے، جس سے شہریوں کی صحت براہِ راست متاثر ہو رہی ہے۔
عوام کا کہنا ہے کہ ملاوٹ کا سلسلہ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ لوگ روزمرہ استعمال کی بنیادی چیزیں بھی خوف کے بغیر نہیں خرید سکتے۔ ملاوٹ شدہ خوراک کے استعمال سے معدے، آنتوں اور جلدی بیماریوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ بچوں اور بزرگوں میں صحت کے مسائل زیادہ نمایاں ہیں۔
ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کاروبار بعض اثرورسوخ رکھنے والے ڈیلروں، فیکٹری مالکان اور متعلقہ حکام کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں۔ متعلقہ اداروں کی مبینہ چشم پوشی نے ملاوٹ مافیا کو مزید مضبوط بنا دیا ہے۔
عوامی حلقوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ عناصر نہ صرف لوگوں کی جیبوں پر ڈاکا ڈال رہے ہیں بلکہ ان کی صحت سے بھی کھیل رہے ہیں۔
عوام کا مطالبہ
شہریوں نے ایس ایس پی خضدار، ڈپٹی کمشنر خضدار اور بلوچستان فوڈ اتھارٹی سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے:
ملاوٹ مافیا کے خلاف سخت کارروائی
غیر قانونی فیکٹریوں پر چھاپے
معیاری خوراک کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے
عوام نے خبردار کیا کہ اگر بروقت کارروائی نہ ہوئی تو حالات بے قابو ہوسکتے ہیں اور ملاوٹ مافیا مزید مضبوط ہو جائے گا۔
Comments are closed.