بھارت کا جعلی نیوز ویب سائٹس کے ذریعے پاکستان کو نشانہ بنانے کا انکشاف

برسلز: ایک غیر سرکاری یورپی گروپ نے بھارتی نیٹ ورک کے زیر انتظام 265 نیوز آئوٹ لیٹس موجود ہونے کا انکشاف کیا ہے جس کا مقصد پاکستان کے حوالے سے تنقیدی مواد کے ذریعے یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ پر اثر انداز ہونا تھا۔ ای یو ڈس انفو لیب نامی گروپ کا مقصد یورپی یونین، اس کے اراکین ممالک، اہم اداروں اور اہم روایات کو ہدف بنانے والی غلط معلومات کی منظم مہم کے حوالے سے تحقیق کرنا ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اپنی تحقیقات کے دوران مذکورہ گروپ کے سامنے انکشاف ہوا کہ جعلی ویب سائٹس غیر معمولی پریس ایجنسیوں سے پاکستان کے خلاف مواد، سیاستدانوں اور مشتبہ تھنک ٹینکس کی جانب سے پھیلایا ہوا مواد نقل کر کے چھاپتی ہیں جو بھارتی جیو پولیٹکل مفادات کی حمایت کرتا ہو۔اسی قسم کی ای پی ٹوڈے ڈاٹ کام نامی ویب سائٹ برسلز میں یورپی پارلیمنٹ کا میگزین ہونے کا دعوی کرتی ہے جس نے لفظ بہ لفظ خبروں کو نقل کیا۔ای ٹوڈے کا زیادہ تر مواد امریکی فنڈنگ سے چلنے والی ویب سائٹ وائس آف امریکا سے لیا گیا جو بھارتی مفاد میں اور پاکستان کے لیے تنقیدی ہے۔ڈی انفو لیب کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ویب سائٹ نے بہت بڑی تعداد میں ایسی آرٹیکل یا آرا پرمبنی مضامین شائع کیے جو پاکستان میں اقلیتوں سے متعلق تھے۔تحقیق میں اس بات س بھی پردہ اٹھایا گیا کہ یہ نیوز آٹ لیٹ بھارتی اسٹیک ہولڈرز چلا رہے ہیں جن کے تعلقات تھنک ٹینکس، غیر سرکاری تنظیموں(این جی او)اور سری وستاوا گروپ سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں کے ایک بڑے گروپ سے ہے۔یورپ کی ڈس انفو لیب کی تحقیقات میں یہ بات آئی کہ ای پی ٹوڈے کے دفتر کا پتا وہی ہے جو دہلی سے تعلق رکھنے والے سری وستاوا گروپ کا ہے جبکہ سری وساتاوا گروپ کا آئی پی ایڈریس بھی مشتبہ آن لائن میڈیا نئی دہلی ٹائمز اور انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار نان الائنڈ اسٹڈیز (آئی آئی این ایس)کے لیے استعمال ہورہا ہے۔




