اہم خبریںبین الاقوامی

میانمار، احتجاج جاری،شیلنگ سے متعدد زخمی، اضافی فوج تعینات

ینگون  :  مظاہرین کو کچلنے کیلئے فوجی حکمرانوں نے ملک بھر میں مزید فوجی تعینات کر دیئے جبکہ انٹرنیٹ سروس آٹھ گھنٹے کیلئے مکمل طور پر معطل رہی ۔ دوسرے بڑے شہر ماندالے میں مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پولیس اور فوج نے ربڑ کی گولیاں چلائیں، غلیلوں کا بھی استعمال کیا جس سے متعدد افراد زخمی ہو گئے ۔ نیوز ایجنسی کے مطابق ملک کے معاشی دارالحکومت ینگون میں دن بھر بکتر بند فوجی گاڑیاں گشت کرتی رہیں، اس کے باوجود مظاہروں کا سلسلہ جاری رہاجس میں انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی یونیورسٹیوں کے سینکڑوں طلبہ بھی شریک ہوئے ، سب سے بڑا مظاہرہ مرکزی بینک کے باہر ہوا جہاں بڑی تعداد میں فوجی تعینات کئے گئے تھے ۔ میانمار کے دارالحکومت سمیت دیگر شہروں میں بھی فوجی آمریت کیلئے مظاہرے ہوئے ، جنوبی شہر داوئی میں مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر تحریر تھا ‘‘وہ دن میں قتل کرتے ہیں، رات کو چوری کرتے ہیں، ٹی وی جھوٹ بولتے ہیں’’۔ میانمار کی معزول رہنما آنگ سان سوچی رواں ہفتے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے عدالت میں پیش ہوں گی۔ سابق رہنما کو امپورٹ ایکسپورٹ قانون کی خلاف ورزی کا سامنا ہے ۔ دارالحکومت نیپیداو میں جج سے ملاقات کے بعد عدالت کے باہر گفتگو میں کہا کہ آنگ سان سوچی اور سابق صدر وین مائنٹ دونوں کو 16 اور 17 فروری کو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے عدالت میں پیش کیا جائیگا، اس دوران دونوں سے سوالات کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ دونوں کی نظربندی بدھ کو ختم ہو جائیگی تاہم امکان ہے کہ اس میں توسیع کر دی جائیگی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button