وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کا نیشنل ورکشاپ بلوچستان سے خطاب

13

عسکر انٹرنیشنل رپورٹ

کوئٹہ، 14 اکتوبر —
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں کوئی بغاوت نہیں، بلکہ غیر ملکی قوتوں کی سرپرستی میں چلنے والی نام نہاد علیحدگی پسند تحریکیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک دشمن عناصر کا مقصد پاکستان کو نقصان پہنچانا اور تقسیم کرنا ہے، مگر ان کی سازشیں ناکام ہوں گی۔

یہ بات انہوں نے 17ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں ترقی کے حوالے سے پھیلایا گیا غلط تاثر حقائق کے منافی ہے۔ ’’کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ بندوق اٹھا کر خود کو ناراض بلوچ کہلائے — جو ہتھیار اٹھائے وہ دہشت گرد ہے، ناراض نہیں۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ صوبے میں پہلا فراری کیمپ 21 جون 2002 کو قائم کیا گیا جس نے دہشت گردی اور نوجوانوں کے استحصال کے دروازے کھولے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دشمن میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو ریاست سے دور کرنے کی سازش کرتا رہا، مگر حکومت تعلیمی اداروں میں نوجوانوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔

میر سرفراز بگٹی نے انکشاف کیا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں براہِ راست ملوث ہے اور علیحدگی پسند عناصر بھارت کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف ریاستی اداروں کی نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے، کیونکہ پاکستان کی بقاء اسی میں ہے۔

وزیر اعلیٰ نے مزید بتایا کہ 3200 بند اسکولز اور 164 بیسک ہیلتھ یونٹس کو فعال کر دیا گیا ہے جبکہ سی ٹی ڈی کی استعداد بڑھانے کے لیے 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت اچھے طرزِ حکمرانی اور عوامی خدمت کے لیے پرعزم ہے اور امن و خوشحالی کی جانب بڑھ رہی ہے۔

Comments are closed.