
اسلام آباد : لاہور : جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس میں ہمیں روایت سے ہٹ کر مضبوط فیصلے کرنے ہوں گے ، اپوزیشن کے روایتی فیصلوں اور قراردادوں کی کوئی افادیت نہیں ہوگی۔ مولانا فضل الرحمن ن مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت سے ملاقات کے لیے ان کی رہائش گاہ پہنچے جہاں انہوں نے لیگی سربراہ کی عیادت کی۔ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ چودھری شجاعت سے ملاقات میں سیاسی باتیں نہیں ہوئیں۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن 20 تاریخ کوبیٹھ رہی ہے ، اپوزیشن نے ہی طے کرنا ہے کہ ان کا کتنا حلوا کھانے کا موڈ ہے ، اپوزیشن نے طے نہ کیا تو سارا حلوا حکمران کھائیں گے ۔ پیپلزپارٹی اے پی سی کی میزبان ہے ۔ بیروزگاری اور مہنگائی عروج پر ہے ، روپے کی قدر زمین بوس ہوچکی،موٹر وے واقعے پر انہوں نے کہا کہ اب اس ملک میں عام خاتون کی عزت بھی محفوظ نہیں، سر راہ خاتون کی عزت پر ڈاکا ڈالنے والے عناصر کو عبرت ناک سزادی جائے ، ذمے دار ایسے بیانات دے رہے ہیں جو زخم پر مزید نمک چھڑکنے کے مترادف ہے ۔ حکمرانوں کے پاس خواتین کے ساتھ زیادتی کے مرتکب ملزموں کو پھانسی دینے کا اختیار ہے اس کے لئے کسی نئی قانون سازی کی ضرورت نہیں، لاہور موٹروے واقعہ سے پوری قوم کے سرشرم سے جھک گئے ، ادارے اپنی حدود میں رہیں تو کسی کوئی مسئلہ نہیں ہوگا ریاست مدینہ کے دعویداروں کے دور حکومت میں کسی کی عزت محفوظ نہیں، تحریک انصاف کی حکومت سے پولیس، فوج سمیت دیگر اداروں میں اصلاحات کی کوئی توقع نہیں، میں صرف یہ کہوں گا کہ تحریک انصاف والے راہ راست پر آجائیں ،شجاعت کی عیادت کرنے آیا تھا ،حلوہ بھی کھایا ہے اور قہوہ بھی پیا ہے ، حکمرانوں سے کسی اچھائی کی توقع نہیں، معیشت کمزور ہورہی ہے ، بے روزگاری، جرائم میں اضافہ ہوا ہے ، 20ستمبر کو اے پی سی ہورہی ہے فیصلے آپ کے سامنے آجائیں گے ، اپوزیشن جماعتوں میں مشاورت جاری ہے ، سرعام پھانسی کے قانون کے بارے فی الحال میرے ذہن میں کچھ نہیں ،مسئلہ قانون پر عملدرآمد کا ہے ، نوازشریف کے دور میں ایک سرعام پھانسی ہوئی تھی کیا اس سے جرائم رک گئے تھے ، سزا پر عملدرآمد کا یقین ہونا چاہیے پھر جرائم رکیں گے ۔




