باچاخان میڈیکل کمپلیکس میں نیوٹریشن سٹیبلائزیشن سینٹر کا افتتاح

25

 صوابی: بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی چیئرپرسن روبینہ خالد اور صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن نے باچاخان میڈیکل کمپلیکس صوابی میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور بے نظیر نشوونما پروگرام کے تحت قائم نیوٹریشن سٹیبلائزیشن سینٹر کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر پاکستان میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے نمائندے لیو ڈپنگ بھی موجود تھے۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرپرسن بی آئی ایس پی روبینہ خالد نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام خیبرپختونخوا اور قبائلی اضلاع میں نیوٹریشن سٹیبلائزیشن سینٹرز کے قیام میں بھرپور تعاون کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ بچے کی پیدائش سے لے کر دو سال تک کا عرصہ نہایت اہم ہوتا ہے اور اگر اس دوران بچوں کی مناسب نگہداشت اور درست نشوونما نہ ہو تو اس کے بچوں کی صحت اور ذہنی نشوونما پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی اور صوبائی حکومت مل کر بچوں کی نگہداشت اور مانیٹرنگ کو یقینی بنائیں گے۔ روبینہ خالد نے کہا کہ اگر کسی کو ان مراکز سے متعلق کوئی شکایت ہو تو وہ براہ راست بی آئی ایس پی سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیوٹریشن سٹیبلائزیشن سینٹر کے قیام کا مقصد ماں اور بچے کی صحت کو بہتر بنانا اور ایک صحت مند نسل کی پرورش کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان مراکز میں ہر قسم کی بنیادی طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بی آئی ایس پی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت بی آئی ایس پی کے تعاون سے پورے صوبے میں ایسے مراکز قائم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان مراکز کے قیام سے نوزائیدہ بچوں کی اموات میں نمایاں کمی آئے گی اور سال 2030 تک پورے صوبے میں نیوٹریشن سٹیبلائزیشن سینٹرز قائم کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ صوابی میں قائم کیا گیا نیوٹریشن سٹیبلائزیشن سینٹر 10 بستروں پر مشتمل ہے، جہاں پیدائشی طور پر کمزور اور غذائی قلت کے شکار بچوں کو خصوصی طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

Comments are closed.