تعلیمی سفارت کاری بین الاقوامی روابط کا دیرپا اور موثر ذریعہ ہے، قائم مقام صدر مملکت سید یوسف رضا گیلانی کا یونیورسٹی آف لندن کے وفد اور سابق طلبہ کے اعزاز میں منعقدہ استقبالیہ سے خطاب

21

 اسلام آباد۔14جنوری  :قائم مقام صدر مملکت سید یوسف رضا گیلانی نے تعلیمی سفارت کاری کو بین الاقوامی روابط کا ایک دیرپا اور موثر ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے تعلیمی شعبہ میں موجود گہرے مسائل کے حل اور نوجوانوں کو تیزی سے بدلتی دنیا کےلئے تیار کرنے کی خاطر پائیدار تعلیمی شراکت داری ناگزیر ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں یونیورسٹی آف لندن کے وفد اور اس کے سابق طلبہ کے اعزاز میں منعقدہ استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ قائم مقام صدر نے کہا کہ وفد کی موجودگی پاکستان اور برطانیہ کے درمیان علم، امنگ اور شراکت داری کے ایک مضبوط پل کی علامت ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی آف لندن کے عالمی مقام اور تقریباً دو صدیوں پر محیط مختلف شعبوں میں انسانی ترقی کےلئے خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ قائم مقام صدر نے کہا کہ پاکستان کی کئی نامور شخصیات یونیورسٹی آف لندن کی فارغ التحصیل ہیں جنہوں نے عوامی خدمت، قانون، طب، تدریس، تجارت اور سفارت کاری جیسے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں، یہ مشترکہ تعلیمی ورثہ دوطرفہ تعلیمی تعاون کی بنیاد فراہم کرتا ہے اور تعلقات کے فروغ کے لئے ایک مضبوط اساس ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے بین الاقوامی پروگراموں اور تسلیم شدہ تدریسی مراکز نے ہزاروں پاکستانی طلبہ کو ملک چھوڑے بغیر عالمی معیار کی تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا، اس سے تعلیم کو عام کرنے میں مدد ملی اور نوجوان پاکستانی اپنے وطن میں رہتے ہوئے عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل بنے۔ قائم مقام صدر نے اس بات پر زور دیا کہ ملک اس وقت تعلیمی ترقی کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، عوام اور اساتذہ کی کوششوں کے باوجود تعلیمی شعبہ اب بھی کئی مسائل کا شکار ہے جن میں سکول سے باہر بچوں کی بڑی تعداد، صنفی تفاوت اور علاقائی عدم مساوات شامل ہیں جو خاص طور پر لڑکیوں اور دیہی علاقوں کو متاثر کرتی ہیں۔انہوں نے یاد دلایا کہ انہی چیلنجز کے پیش نظر حکومت نے 2024 میں قومی تعلیمی ایمرجنسی کا اعلان کیا تھا تاکہ وفاقی اور صوبائی سطح پر مربوط کوششوں کے ذریعے تعلیم تک مساوی رسائی اور تعلیمی معیار میں بہتری لائی جاسکے۔ انہوں نے قومی تعلیمی پالیسی ڈویلپمنٹ فریم ورک 2024 کو اصلاحات کےلئے ایک جامع روڈ میپ قرار دیتے ہوئے بے نظیر تعلیمی وظائف جیسے اقدامات کا حوالہ دیا جو بچوں کو سکول میں داخلے اور حاضری کی حوصلہ افزائی کےلئے مشروط مالی معاونت فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے 2022 کے سیلاب سمیت موسمیاتی آفات کے تعلیمی انفراسٹرکچر پر اثرات کا بھی ذکر کیا اور ریزیلینٹ تعلیمی نظام کی ضرورت پر زور دیا۔ قائم مقام صدر نے کہا کہ بطور وزیر اعظم اور قومی اسمبلی کے سپیکر سمیت اپنے مختلف آئینی عہدوں کے دوران تعلیم ہمیشہ ان کی ترجیحات میں شامل رہی۔ انہوں نے یونیورسٹی آف سوات جیسے نئے اداروں کے قیام کو اس یقین کی عملی مثال قرار دیا کہ تعلیم ہی تنازعات، انتہاپسندی اور پسماندگی کا سب سے موثر جواب ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2024 سے سینیٹ کے چیئرمین اور اس وقت قائم مقام صدر کی حیثیت سے وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ تعلیم میں سرمایہ کاری کوئی خرچ نہیں بلکہ قومی ترقی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ نے ہمیشہ اپنی قانون سازی اور نگرانی کے کردار کے ذریعے تعلیم کےلئے مسلسل فنڈنگ اور اصلاحات کی حمایت کی ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ آج کے دور میں جب دنیا تیز رفتار تکنیکی تبدیلی، موسمیاتی چیلنجز اور مصنوعی ذہانت کے عروج سے گزر رہی ہے، تعلیم قومی سرحدوں سے بالاتر ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے اے آئی پالیسی 2025 اور ڈیجیٹل سیکٹر روڈ میپ 2025–2035 کی منظوری اس عزم کا اظہار ہے کہ نوجوانوں کو ڈیجیٹل معیشت کےلئے تیار کیا جائے جبکہ آئی ٹی برآمدات 3.8 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں جو تقریباً 20 فیصد سالانہ کی شرح سے بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف ٹیکنالوجی کافی نہیں بلکہ یونیورسٹی آف لندن جیسے اداروں کے ساتھ گہرے روابط کی ضرورت ہے تاکہ استعداد کار میں اضافہ، تدریسی معیار کی بہتری اور بہترین کارکردگی کی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔ قائم مقام صدر نے امید ظاہر کی کہ وفد کا یہ دورہ بالخصوص طلبہ کےلئے نئے مواقع پیدا کرے گا جنہیں انہوں نے ملک کا مستقبل قرار دیا۔ اس سے قبل وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاءاللہ تارڑ نے پاکستان کے ساتھ یونیورسٹی آف لندن کے دیرینہ تعلقات اور اس کے قانون کے پروگراموں میں پاکستان سے متعلق ماڈیولز متعارف کرانے کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ بطور سابق طالب علم یونیورسٹی میں حاصل کی گئی تعلیم نے ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور عوامی خدمت کو مضبوط بنایا۔ اپنے استقبالیہ کلمات میں یونیورسٹی آف لندن کے پرو وائس چانسلر پروفیسر فل آل مینڈنگر نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعاون کو ادارہ مستقبل کی تشکیل کےلئے ایک دوراندیش حکمت عملی کا حصہ سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں یونیورسٹی کا مضبوط سابق طلبہ نیٹ ورک موجود ہے اور 25 ایلومنائی ایمبیسیڈر پبلک پالیسی اور گورننس میں کردار ادا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی آف لندن کا وفد اس سال لاہور، اسلام آباد اور کراچی کا دورہ کرے گا تاکہ وہ موجودہ اور سابق طلبہ سے ملاقاتیں کرے اور حکومتی نمائندوں سے تبادلہ خیال کرے۔ انہوں نے پاکستان کےلئے خصوصی سکالرشپ پروگرام کا بھی اعلان کیا جس میں تین مکمل وقتی وظائف شامل ہیں جبکہ دنیا بھر میں 40 سے زائد پاکستانی طلبہ اس سال یونیورسٹی آف لندن کی سکالرشپس سے مستفید ہوں گے۔ پاکستان میں برٹش کونسل کے سربراہ جیمز ہیمپسن نے کہا کہ تعلیم پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات کا ایک اہم ستون ہے، انہوں نے یونیورسٹی آف لندن کو برطانیہ کا سب سے بڑا فاصلاتی تعلیم کا ادارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ سے تعلیم حاصل کرنے والے ہزاروں پاکستانی آج ملک میں اہم عہدوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں جس سے عوامی سطح پر روابط مضبوط ہو رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کی جج جسٹس عائشہ اے ملک نے کہا کہ سابق طلباءکی معزز کمیونٹی کی رکنیت کے ساتھ ذمہ داریاں بھی وابستہ ہوتی ہیں۔ انہوں نے تعلیم تک رسائی کو بنیادی حق قرار دیتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ اداروں کے فارغ التحصیل افراد کو ادارہ سازی میں کردار ادا کرکے معیار کو برقرار رکھنا چاہیے خصوصاً ان لوگوں کےلئے جنہیں ایسے مواقع میسر نہیں ہیں۔

Comments are closed.