جھالاوان میڈیکل کالج خضدار کے شعبہ کمیونٹی میڈیسن کے زیراہتمام صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے موضوع پر ایک اہم اور معلوماتی سیمینار منعقد ہوا
خضدار 13 ستمبر: جھالاوان میڈیکل کالج خضدار کے شعبہ کمیونٹی میڈیسن کے زیراہتمام صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے موضوع پر ایک اہم اور معلوماتی سیمینار منعقد ہوا، جس میں ماہرینِ طب، اساتذہ، اور بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔ اس سیمینار کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کے طبی میدان پر اثرات اور اس کے مثبت امکانات کو اجاگر کرنا تھا۔ تقریب کے آغاز میں کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر عبدالصمد گچکی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا تیزی سے ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کر رہی ہے اور صحت کا شعبہ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) نہ صرف تشخیص کے عمل کو تیز اور درست بناتی ہے بلکہ علاج اور مریضوں کی دیکھ بھال میں بھی انقلابی تبدیلیاں لا رہی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا اپنانا وقت کی ضرورت ہے۔ مہمان مقرر ڈاکٹر نور احمد بنگلزئی پی ایچ ڈی برائے مصنوعی ذہانت، جو میڈیکل امیجنگ اور مصنوعی ذہانت کے بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہر ہیں، نے اپنی طویل تحقیق اور اعلیٰ سطح کے جرائد میں شائع ہونے والے مضامین کی روشنی میں حاضرین کو بتایا کہ کس طرح اے آئی کی بدولت ایکسرے، سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی جیسے پیچیدہ عمل زیادہ سہل اور درست ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل قریب میں مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام ڈاکٹرز کی معاونت سے نہ صرف بیماریوں کی بروقت تشخیص میں مددگار ہوں گے بلکہ مریضوں کی بہتر رہنمائی اور علاج میں بھی کلیدی کردار ادا کریں گے۔ سیمینار میں فیکلٹی کے دیگر اراکین اور طلبہ نے بھی گفتگو کی اور اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگرامز طبی تعلیم کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ طلبہ نے اعتراف کیا کہ اس سیمینار نے انہیں نئی سوچ اور تحقیق کی طرف مائل کیا ہے اور انہیں یہ احساس ہوا ہے کہ جدید سائنسی علوم کے بغیر طب کا شعبہ ادھورا ہے۔ اختتامی کلمات میں سیمینار کے منتظم ڈاکٹر بشیر بلوچ نے تمام شرکاء، مہمان، مقررین اور کالج انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ جھالاوان میڈیکل کالج مستقبل میں بھی ایسے علمی و تحقیقی پروگرامز کا اہتمام کرتا رہے گا تاکہ طلبہ اور فیکلٹی جدید طبی ترقیوں سے ہم آہنگ رہ سکیں۔
Comments are closed.