اس لیئے
سیلاب 2022 کے تجربات کی روشنی میں حفاظتی اقدامات کی فوری ضرورت
سیلاب 2022 کے دوران ضلع نصیرآباد کے دیہی علاقوں میں ندی نالوں میں طغیانی کے باعث راستے بند ہو گئے تھے۔
جس کے نتیجے میں عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اس ہنگامی صورتحال میں طبی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث ملیریا وبائی صورت اختیار کر گیا،
جس سے صرف تحصیل چھتر میں 80 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے۔
اس کے علاوہ زہریلے کیڑوں کے کاٹے اور جلدی امراض کی وجہ سے بھی سینکڑوں افراد متاثر ہوئے۔
اور قیمتی جانوں کے ضیاع سمیت مالی نقصان بھی ہوا۔
بدقسمتی سے ان نقصانات کو سرکاری اعداد و شمار میں شامل نہیں کیا گیا۔
جو ایک سنجیدہ غفلت کی عکاسی کرتا ہے۔
سابقہ تجربات کی روشنی میں درج ذیل اقدامات کو فوری اور ہنگامی بنیادوں پر یقینی بنایا جانا چاہیے:
جہاں جہاں سڑکوں اور نہروں کے پشتے کمزور ہیں انھیں ابھی سے مضبوط بنانے کے لیئے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کیا جائے ۔
خوراک و ادویات کی پیشگی فراہمی
جہاں کہیں بھی سیلاب کے باعث راستوں کی بندش کا اندیشہ ہو، وہاں کے دیہی علاقوں میں خوراک اور بنیادی ادویات پہلے ہی پہنچا دی جائیں
تاکہ ہنگامی صورتحال میں فوری امداد ممکن ہو۔
فری میڈیکل کیمپ اور ابتدائی طبی امداد
ممکنہ متاثرہ علاقوں میں بروقت فری میڈیکل کیمپ قائم کرنے کے لیئے
وہاں تک پہلے سے ہی میڈیکل ٹیمیں پہنچا دینا لازم ہے۔
ہر ایسے گھرانے کو، جس میں دس یا
اس سے زیادہ افراد موجود ہوں،
انھیں ہر صورت ایک مکمل فرسٹ ایڈ باکس فراہم کیا جائے۔
جہاں جہاں سیلاب سے متاثر ہونے کے قوی امکانات ہیں
وہاں کے تمام محفوظ مقامات پر خیمے، صاف پانی، اور خشک راشن کا مختصر مگر مؤثر ذخیرہ رکھا جائے
تاکہ متاثرین نقل مکانی کے دوران بروقت بنیادی ضروریات سے محروم نہ ہوں۔
جس کسی تحصیل کے جس جس مقام پر سیلاب سے دوچار ہونے کا زیادہ خطرہ محسوس کیا جائے
تمام سرکاری عمارتوں سکولوں ، صحت کے مراکز و دیگر کئی ایک دفاتر کی صفائی ستھرائی کرائی جائے۔
تاکہ سیلاب کے آتے ہی متاثرین کو وہاں تک منتقل کرنے میں آسانی رہے ۔
اس ہر تحصیل میں مچھر مار اسپرے مشین، دوا، اور اس کے لیے درکار ڈیزل و دیگر لوازمات کا ذخیرہ رکھا جائے
تاکہ ملیریا کی وبا پر قابو پایا جا سکے۔
ساتھ ہی
ایسے علاقوں میں، جہاں زہریلے سانپوں کی موجودگی کا اندیشہ ہو،
وہاں سانپ کے زہر کا تریاق (انجیکشن) فوری طور پر دستیاب رکھا جائے۔
تاکہ اگر زہریلے سانپ کو ڈستے وقت دیکھا یا مارا گیا ہو
تو متاثرہ فرد کو فوری انجیکشن دیا جاسکے۔
محکمہ حیوانات کو چاہیئے کہ ایسے حالات میں مویشیوں میں پھیلانے والے امراض کی روک تھام کے لیئے ضلع بھر میں ابھی سے ویکسینیشن مہم کا آغاز کرے۔
کشتیاں اور ریسکیو کا سامان
ٹینڈا، قبولہ، بیرون، ربیع، قبہ شیر خان ، دولت گھاڑی، اور تحصیل چھتر میں کم از کم ایک ایک کشتی مہیا کی جائے
تاکہ لوگوں کو بروقت محفوظ مقامات تک منتقل کرنے میں آسانی رہے۔
ممکنہ متاثرہ علاقوں میں سرکاری مشینری کو متحرک رکھا جائے تاکہ فوری ردعمل ممکن ہو۔
ساتھ ہی رضاکار تنظیموں کو چاہیے کہ
وہ اپنے کارکنان کو پیشگی تربیت دیں
اور ممکنہ نقصانات کے پیش نظر خطرناک علاقوں میں اپنی ٹیموں کو قبل از وقت تعینات کریں۔
جن علاقوں کی گذرگاہوں میں شگاف پڑنے کے قوی امکانات ہیں
وہاں انھیں فوری پر کرنے سمیت ان سے اندرون تک جتنے بھی دیہات ہیں وہاں موجود اشیاء خوردونوش کے تاجران پہلے سے خوردنی اشیاء کی وافر مقدار موجود رکھیں۔
ساتھ ہی وہاں ڈیزل ، پیٹرول اور مٹی کا تیل خشک لکڑیاں پہنچانے کا مکمل بندوبست کیا جانا لازم ہے۔
سیلاب ایک قدرتی آفت ہے، لیکن بروقت تیاری
اور منظم اقدامات کے ذریعے ہم اس کے نقصانات کو بڑی حد تک کم کر سکتے ہیں۔
2022 کے تلخ تجربات کو نظرانداز کرنے کی بجائے
اسے ایک رہنما اصول بنانا ہوگا
تاکہ مستقبل میں انسانی جانوں اور وسائل کا تحفظ ممکن ہو۔
قادر نصیب چھتروی



