چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سے گورنر خیبرپختونخواہ کی قیادت میں 90 رکنی قبائلی جرگے کے ممبران کی پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات۔

16

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سے گورنر خیبرپختونخواہ کی قیادت میں 90 رکنی قبائلی جرگے کے ممبران کی پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات۔

قبائلی جرگہ میں ڈاکٹر عالم زیب مہند، ملک خان مرجان وزیر، بسم اللہ خان  افریدی سمیت  قبائلی  مشران و دیگر مہمان  شامل تھے۔

قبائلی جرگہ نے چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کو سابقہ ضم شدہ فاٹا کے اضلاع کے حوالے سے درپیش مسائل، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور سابق فاٹا کے ضم شدہ اضلاع سے متعلقہ امور بارے تفصیلی آگاہ کیا۔

77 سال گزرنے کے باوجود بھی قبائلی علاقوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔قبائلی جرگہ عمائدین

شہید ذوالفقار علی بھٹو نے خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقوں کے لیے بہت کام کیا تھا،موجودہ قیادت بھی اس مشن پر عمل کرے، قبائلی جرگہ عمائدین

50  لاکھ قبائلی عمائدین آج آئی ڈی پی کی حیثیت سے زندگی بسر کر رہے ہیں ان کے مسائل حل نہیں کیے گئے۔قبائلی جرگہ عمائدین

سید یوسف رضا گیلانی کی قبائلی جرگہ کے عمائدین کو قبائلی عوام کو کسی بھی صورت تنہا نہیں چھوڑنے کی یقین دہانی

ایوان بالا سابقہ فاٹا کی موثر اور بھرپور آواز اور ان کے حقوق کا محافظ ہے ۔سید یوسف رضا گیلانی

چئیرمین سینٹ نے قبائلی جرگہ اور گورنر خیبر پختونخواہ کو قبائلی عوام کے مسائل کو موثر انداز میں حل کرنیکی یقین دہانی کرائی

چیئرمین سینیٹ نے گورنر خیبرپختونخوا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے قبائلی عوام کے مسائل کو مؤثر انداز میں اعلیٰ سطح تک پہنچایا۔

این ایف سی ایوارڈ سے 3 فیصد حصہ سابق فاٹا کے لیے مختص کرنے کا جو وعدہ کیا گیا تھا، وہ تاحال مکمل طور پر نافذ نہیں کیا گیا۔گورنر خیبر پختونخوا

وفاقی حکومت کی جانب سے جو فنڈز مختص کیے جاتے ہیں، وہ بھی اصل وعدے سے کم ہوتے ہیں،فیصل کریم کنڈی

سابق فاٹا کے فنڈ صوبائی نظام میں منتقل ہونے سے سے شفافیت اور مؤثر استعمال پر سوالات اٹھتے ہیں۔فیصل کریم کنڈی

یہ معاملہ وفاق اور صوبوں کے درمیان ایک فٹبال بن چکا ہے،گورنر خیبرپختونخوا

موجودہ نظام کے تحت قبائلی علاقوں اور عوام کا تحفظ ممکن نہیں ہو پا رہا۔ فیصل کریم کنڈی

موجودہ نظام کو بہتر بنا کر ضم شدہ اضلاع کے عوام کے جائز تحفظات اور شکایات کا ازالہ ہونا چاہئے، فیصل کریم کنڈی

فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے بعد صوبے کے رقبے اور آبادی میں واضح اضافہ ہوا ہے۔فیصل کریم کنڈی

ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے مطابق انضمام شدہ علاقوں کی آبادی کا قومی آبادی میں تناسب 13 فیصد سے بڑھ کر 17.1 فیصد ہو چکا ہے، فیصل کریم کنڈی

قبائلی علاقوں میں غربت کی شرح بھی تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہے۔فیصل کریم کنڈی

تمام جغرافیائی اور معاشی تبدیلیوں کے باوجود سابق فاٹا کے عوام کو این ایف سی کے تحت ان کا جائز اور آئینی حق تاحال فراہم نہیں کیا گیا، فیصل کریم کنڈی

قبائلی علاقوں میں ترقیاتی عمل سست روی کا شکار اور عوام کی زندگیوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔فیصل کریم کنڈی

وفاقی حکومت سابق فاٹا کے عوام کو قومی مالیاتی کمیشن کے فریم ورک کے تحت ان کا مکمل اور آئینی حق دے،فیصل کریم کنڈی

Comments are closed.