امریکا میں سترہ برس بعد سزائے موت کے کسی فیصلے پر عملدرآمد

0 31

واشنگٹن: امریکی اپیلز کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں سترہ برس بعد وفاقی سطح پر پہلی مرتبہ کسی سزائے موت کے فیصلے پر عملدرآمد کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ پیر کو سینتالیس سالہ مجرم ڈینیل لی کو ایک زہریلا انجیکشن لگایا جانا ہے جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے آئندہ مہینوں میں تین اور افراد کی سزائے موت پر عملدرآمد کے احکامات جاری کر رکھے ہیں۔ انتظامیہ کا موقف ہے کہ سزائے موت پر عمل در آمد کی بحالی سنگین جرائم کے متاثرین کے مفاد میں ہے۔ ڈینیل لی، جن پر سن 1999 میں تین افراد کے قتل کا جرم ثابت ہو چکا ہے، کے اہل خانہ نے آخری لمحات پر سزا رکوانے کے لیے عدالت عظمی سے رجوع کرنے کا کہہ رکھا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.