5 جنوبی و وسطی ایشیائی ممالک کو جوڑنے کا منصوبہ منظر عام پر
واشنگٹن: امریکا اور 5دیگر وسطی ایشیائی ممالک نے معاشی و تجارتی تعلقات قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو وسطی ایشیائی مارکیٹ کو جنوبی ایشیا اور یورپ سے جوڑ دیں،راہداری سے جنوبی اور وسطی ایشیائی خطے میں معاشی استحکام کے مواقع پیدا ہوں گے، چینی سرمایہ کاری کیلئے بھی دروازے کھلیں گے،ایرانی حکومت کی تنہائی ختم کی جائیگی،چین و ایران مابین ٹیلی کمیونکیشن، بندرگاہوں، ریلوے اور سڑکوں کا جال بچھایا جائیگا دوسری جانب بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ دو متوازی تجارتی راستوں کی تعمیر کی کوششوں سے پاکستان پر ایک راستہ منتخب کرنے کے لیے دبائو بڑھ جائے گا۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن میں رواں ہفتے جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں انہوں نے افغانستان میں صورتحال کے پر امن حل کی کوششوں کو سراہا جس کے بارے میں امریکیوں کا ماننا ہے کہ اس سے جنوبی اور وسطی ایشیائی خطے میں معاشی استحکام کے مواقع پیدا ہوں گے۔نیو یارک ٹائمزکی رپورٹ کے مطاابق ایران اور چین نے دونوں خطے کو ملانے کا مشترکہ منصوبہ ترتیب دیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ‘ وہ معاشی و سلامتی شراکت دار بن رہے ہیں جس سے اربوں ڈالر کی چینی سرمایہ کاری کا راستہ ایران میں کھلے گا’۔ٹائمز جس کے پاس اس معاہدے کی ایک کاپی موجود ہے، نے رپورٹ کیا کہ 25 سالوں میں ایران میں 400 ارب ڈالر کی کل چینی سرمایہ کاری ہوگی۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اس معاہدے سے ‘ایرانی حکومت کو تنہا کرنے کے ٹرمپ انتظامیہ کی کوششوں کو ختم کیا جائے گا’ اور خطے میں چین کی موجودگی کو ‘وسیع پیمانے پر وسعت دی جائے گی’۔دونوں ممالک مشترکہ طور پر ٹیلی کمیونکیشن، بندرگاہوں، ریلوے اور سڑکوں کا ایک ایسا نیٹ ورک تیار کریں گے جو مشرق وسطی اور یورپ کی منڈیوں تک چین کی رسائی کو بڑھائے گا۔واشنگٹن میں موجود سفارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور چین دونوں ہی جنوبی اور وسطی ایشیائی خطوں میں بہت زیادہ معاشی امکانات دیکھتے ہیں اور ان تجارتی راستوں پر قابو پانا چاہتے ہیں جس سے ان کا انضمام کھل سکتا ہے۔مئی کے آخر میں سہ فریقی فورم کے افتتاحی اجلاس میں امریکا، افغانستان اور ازبکستان نے ایسے منصوبوں کا بھی جائزہ لیا جو جنوبی اور وسطی ایشیا کو جوڑ کر پورے خطے میں خوشحالی لائیں۔ان کے اجلاس کے بعد جاری ایک مشترکہ بیان میں وسطی ایشیا اور پاکستان کے مابین ریلوے روابط اور ایک گیس پائپ لائن جو پاکستان کے راستے بھارت تک جاتی ہے کا راستہ بنانے کی ضرورت پر روشنی ڈالی گئی۔واشنگٹن میں مبصرین نے متنبہ کیا ہے کہ دو متوازی تجارتی راستوں کی تعمیر کی کوششوں سے پاکستان پر ایک راستہ منتخب کرنے کے لیے دبا ئوبڑھ جائے گا۔