ایک اور “اداکارہ حمیرا اصغر” ایک خوبصورت چہرہ، ایک آزاد “عورت، ایک مشہور نام” لیکن کیا واقعی وہ کامیاب تھی؟
سناٹے سے گونجتا کمرہ، بند دروازے کے پیچھے 21 دنوں سے خاموش پڑی لاش، اور آس پاس نہ کوئی آنکھ اشک بار، نہ کوئی ماتم، نہ کوئی دعا۔ بس دیواریں تھیں، جو چیخ چیخ کر اس عورت کی تنہائی کی گواہ تھیں، جو کبھی اپنی خودمختاری پر نازاں تھی، جس نے رشتوں کے ریشمی بندھنوں کو آزادی کی زنجیر سمجھ کر توڑ دیا، جو فیمینزم کے افیون سے مدہوش ہو کر اپنے خاندان، بھائی، باپ، اور سب سے بڑھ کر اپنے رب سے بھی روٹھ گئی تھی۔
ایک اور “اداکارہ حمیرا اصغر” ایک خوبصورت چہرہ، ایک آزاد “عورت، ایک مشہور نام” لیکن کیا واقعی وہ کامیاب تھی؟
پولیس اہلکار جب اس کے بھائی کو فون کرتا ہے تو جواب ملتا ہے:
“اس کے والد سے بات کریں”
اور جب والد کو فون کیا جاتا ہے تو ایک باپ کی زبان سے نکلتا ہے:
“ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں، ہم بہت پہلے اس سے ناطہ توڑ چکے، لاش ہے تو جیسے چاہو دفناؤ”
فون بند ہو جاتا ہے، مگر سوال کھلا رہ جاتا ہے کہ وہ کون سی زندگی تھی جو باپ کے دل کو اتنا سخت کر گئی؟ وہ کون سا راستہ تھا جو بھائی کی غیرت کو خاموش کرا گیا؟ وہ کون سی سوچ تھی جس نے ایک جیتے جاگتے وجود کو مہینوں لاش بنا کر سڑنے کے لیے چھوڑ دیا؟
یہ محض ایک واقعہ نہیں، یہ فیمینزم کی وہ بھیانک تصویر ہے، جو اشتہارات میں خوشنما، تقاریر میں متاثرکن، اور سوشل میڈیا پر انقلابی لگتی ہے، مگر اندر سے کھوکھلی، تنہا اور اندھیرے سے لبریز ہوتی ہے۔
فیمینزم کا آغاز عورت کے حقوق سے ہوا، مگر انجام اس کی تنہائی پر ہو رہا ہے۔
فیمینزم نے عورت کو ماں، بیٹی، بہن اور بیوی کے مقدس رشتوں سے نکال کر صرف “خود” بنا دیا اور یہی “خود” آخرکار اُسے اکیلا کر گیا۔
خاندان کا ادارہ، جسے صدیوں کی تہذیب نے پروان چڑھایا، جس میں قربانیاں، محبتیں، ناراضگیاں، مان، اور رشتہ داریوں کی حرارت موجود تھی، اسے آج کی عورت نے “زنجیر” سمجھ کر کاٹ دیا۔ ان درس گاہوں کو جلا دیا گیا جہاں عورت کو خاندان جوڑنے کا واحد راستہ مانا جاتا تھا اور جب وقت کی تیز دھوپ نے جلایا، تو کوئی سایہ دار درخت ساتھ نہ تھا۔
فیس بک کی دوستیں، انسٹاگرام کے فالورز، ٹوئٹر کی آزادی کے نعرے, سب خاموش تھے۔
باپ کا دروازہ بند تھا، بھائی کا دل پتھر ہو چکا تھا، اور ماں شاید برسوں پہلے رو رو کر مر چکی تھی۔
عجیب معاشرہ ہے اب یہ بھی، جہاں اگر بیٹی نافرمان ہو تو باپ ظالم کہلاتا ہے، اور اگر باپ لاتعلق ہو جائے تو بیٹی خودمختاری کا جشن مناتی ہے کہ رشتوں سے جان چھوٹی
آج کی عورت جب گھر سے نکلے، تو “طاقتور” کہلاتی ہے،
جب رشتے توڑے، تو “بغاوت” اور خودغرضی نہیں بلکہ “شعوریافتہ” قرار پاتی ہے۔
اور جب مر جائے، تنہا، بوسیدہ لاش کی صورت،
تو وہ سارا معاشرہ جو پہلے جھوم جھوم کے اس کے جسم کے گن گا رہا تھا خاموش تماشائی بن جاتا ہے۔
کاش حمیرا اصغر نے جانا ہوتا کہ فیمینزم، تحفظ نہیں اشتہار ہے ۔
کاش وہ سمجھ پاتی کہ باپ کی ڈانٹ، محبت کی ایک گونج ہوتی ہے، اور بھائی کی غیرت، عزت کی چادر ہوتی ہے۔ شوہر عورت کا,واحد نجات دہندہ ہے اور اولاد عورت کے قدموں میں نچھاور ہونے کو تیار ہوتی ہے ۔
کاش وہ جان پاتی کہ مرد دشمنی کا نام عورت دوستی نہیں، بلکہ یہ فکری گمراہی ہے جو عورت کو اس کے رب، اس کے دین، اور اس کی فطرت سے کاٹ دیتی ہے۔
وہ ماں کا پیار، باپ کی شفقت، بھائی کی غیرت، اور شوہر کی رفاقت کو بوجھ نہ سمجھے۔
ورنہ فیمینزم کی راہ میں جو منزل ہے، وہ تنہائی، بے رُخی، اور بے گور و کفن لاش ہے۔
حمیرا اصغر چلی گئی,
لیکن فیمینزم کی دُھند میں گُم اور لاکھوں قطار میں لگی ہیں اس عارضی زندگی سے لطف کو کشید کرتی,
بس ہمیں تب ہوش آتا ہے،
جب تعفن زدہ لاش دیواروں کو گھورتی رہتی ہے ۔۔۔
“اور دیواریں قہقے لگا کر کہتی ہیں آزادی چاہیے تھی نا؟ لے لو…
Comments are closed.