بڑی کامیابی کا دعویٰ؛ یوکرین نے خارکیف میں روسی فوج کو پسپا کردیا

0

کیف: یوکرین نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے خارکیف سے روسی فوج کو پسپا ہونے پر مجبور کردیا جب کہ روس کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنی فوجیں ایک حکمت عملی کے تحت از خود واپس بلائی ہیں۔  

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرین کے شہر خارکیف کے دو اہم علاقوں بالاکلیہ اور ازیوم سے روسی فوجیں واپس چلی گئی ہیں۔ خارکیف میں روسی کا قبضہ رواں برس مارچ سے تھا تاہم انھیں یوکرینی فوج کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا بھی ہے۔

اس حوالے سے فریقین نے متضاد دعوے کیے ہیں روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ خارکیف کے علاقوں بالاکلیہ اور ازیوم سے اپنی فوجیں حکمت عملی کے تحت واپس بلائی ہیں تاکہ یوکرین میں موجود اپنی فوجی دستوں کو کو پھر سے منظم کرسکیں اور ڈونیسک پر کارروائی تیز کریں۔

دوسری جانب یوکریں کی فوج نے اس کارروائی کو 6 ماہ کی جنگ میں سب سے بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ خارکیف کے مشرقی علاقے میں بڑے پیمانے پر روسی فوج کا قبضہ واگزار کرالیا ہے۔ سخت مزاحمت کے باعث روسی فوج ان علاقوں میں پسپائی اختیار پر مجبور ہوئی۔

یوکرین فوج کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ملکی فوجیں پیش قدمی کرتے ہوئے مشرقی شہر لائسچنک کے قریب پہنچ گئی ہیں جہاں رواں برس جولائی سے روسی فوج کا قبضہ ہے اور اب اس شہر سے بھی روسی فوج کو بھاگنے پر مجبور کردیں گے۔

جنگی امور کے ماہرین یوکرین فوج کی اس پیش قدمی کو بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ خارکیف کے مشرقی حصے پر روسی فوج کا قبضہ اور مضبوط گرفت تھی جسے یوکرینی فوج توڑنے میں کامیاب ہوئی۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز نے تجزیہ کیا کہ خارکیف میں یوکرین کی افواج کی غیرمتوقع پیش قدمی کے باعث روس فوج کے پاس ازیوم شہر سے پیچھے ہٹنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔

خیال رہے کہ خارکیف کے مشرقی شہر ازیوم کو روسی فوج اسلحہ، گولہ بارود اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل کے لیے ’’لاجسٹک بیس‘‘ کے طور پر استعمال کر رہی تھی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.