کورونا کیخلاف پاکستان کے اقدامات دنیا کیلئے مثال :صدر جنرل اسمبلی
اسلام آباد : اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے نومنتخب صدر وولکن بوزکر نے کہا ہے کورونا کیخلاف پاکستان کے اقدامات دنیا کیلئے مثال ہیں ،جموں و کشمیر کا تنازع اقوا م متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہو نا چاہئے ، مسئلہ کشمیر سفارتی سطح پر حل ہو نا چاہیے ،اقوام متحدہ کی مسئلہ کشمیر پر پوزیشن چارٹر کے مطابق ہے ۔تنازع کشمیر کا واحد حل سفارتی اور اقوام متحدہ قراردادوں کے تحت ہی ہے ،اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے صدر کی حیثیت سے مسئلہ کشمیر پر اپنے مینڈیٹ کے تحت معاونت کو تیار ہوں۔ مشکل چیلنجز کو بات چیت اور بامعنی مذاکرات کے ذریعے پرامن طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے ۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وولکن بوزکر کا کہناتھاپاکستان آ کر بہت خوشی ہوئی،پاکستان برادر اسلامی ملک ہے ۔اقوام متحدہ کے تناظر میں بھی یہ دورہ انتہائی اہم ہے ۔پاکستان کے سفیر فاروق خان کو اپنی کابینہ کے نائب چیف کے طور پر چنا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کورونا وبا کے باعث معاشی، سماجی اور انسانی حقوق کے مسائل جنم لے رہے ہیں۔پاکستان کورونا پر قابو پانے میں کامیاب ہوا، جو دنیا کیلئے کلیدی مثال ہے ،کورونا وبا اقوام متحدہ کیلئے بڑا اور کڑا چیلنج ہے ، اقوام عالم کو اقوام متحدہ کی اشد ضرورت ہے ،اقوام متحدہ کے تمام اہم اجلاس اور دیگر سرگرمیاں اب معمول پر لانے کی ضرورت ہے ،چاہتے ہیں اقوام متحدہ زندہ نظر آئے ، ایسا نہ ہو ہم اقوام متحدہ کو کھو دیں،چاہتے ہیں اقوام متحدہ کی تمام سرگرمیوں میں تمام ممالک شریک ہوں،اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے ستمبر میں ہونیوالے اجلاس میں تمام ممالک کی نمائندگی کی امید ہے ۔ صدر وولکن بوزکر نے کہا دنیا کو کورونا سے نمٹنے کیلئے پاکستان کی کوششوں سے سیکھنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا جموں و کشمیر کے تنازع کے حل سے جنوبی ایشیا میں پائیدار امن قائم ہو سکتا ہے ۔شاہ محمود قریشی کاکہنا تھا وولکن بوزکر سے مسئلہ جموں و کشمیر، بھارتی غاصبانہ اقدامات، ایل او سی پر بھارتی جارحیت پر بات ہوئی۔اقوام متحدہ فوجی مبصر مشن کا مینڈیٹ اقوام متحدہ کا مینڈیٹ ہے ۔ اقوام متحدہ کو ہر صورت امن و سلامتی کیلئے کلیدی کردار ادا کرنا ہو گا،اگر اس خطے نے ترقی کرنی ہے ، تجارت، ربط، کاروبار، معیشت نے آگے بڑھنا ہے تو اقوام متحدہ کو کردار ادا کرنا ہوگا،اگر یہی صورتحال رہی، امن و سلامتی کے مسائل مخدوش رہے تو ترقی و خوشحالی خواب رہے گی۔ایل او سی کے دونوں جانب جوہری طاقتیں اور کشمیر وجہ تنازع ہے ۔اقوام متحدہ نے اپنا حقیقی کردار ادا نہ کیا تو پوری دنیا تباہی کا شکار ہو سکتی ہے ۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھاوزیراعظم کو سفارش کی ہے کہ وہ خود جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوں،جنرل اسمبلی کا اجلاس ورچوئل نہیں فزیکل ہونا چاہئے ۔کرپشن کے ذریعے جس طرح سے رقوم ترقی پذیر ممالک سے منتقل کی گئیں، ان ایشوز کو دیکھنا ہوگا۔ اسلام آباد( وقائع نگار ، نیوز ایجنسیاں ، دنیا نیوز) وزیر اعظم عمران خان سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75 ویں اجلاس کے نو منتخب صدر وولکن بوزکر نے ملاقات کی۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے وولکن بوزکر کو اقوام متحدہ کے 75 ویں تاریخی اجلاس کاصدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔ ملاقات میں وزیر اعظم نے انہیں مقبوضہ جموں و کشمیر کی سنگین صورتحال سے آگاہ کیا اور کہا کہ یہ تنازع 7 دہائیوں سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر ہے ۔بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب بدلنے کی کوشش کی ،اقوام متحدہ بھر پور کردار ادا کرے ۔ وزیر اعظم نے 5 اگست 2019 سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر اور منظم انداز سے کئی گئی خلاف ورزیوں اور ڈیمو گرافک سٹرکچر کو تبدیل کرنے کی کوششوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ اقوام متحدہ اس سنگین صورتحال اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق کشمیری عوام کوان کا حق خودارادیت دلوانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے ۔ وزیر اعظم نے انہیں کووڈ-19 وبا کے معاشی و سماجی اثرات سے نمٹنے کیلئے اپنی حکومت کی طرف سے کئے گئے اقدامات کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ وزیر اعظم نے اس توقع کا اظہار کیا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75 ویں اجلاس میں ان معاملات کو اہمیت دی جائے گی کیونکہ دنیا کے اربوں انسانوں کا مستقبل اس سے وابستہ ہے ۔اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کشمیری اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں میں دیئے گئے حق خودارادیت کا استعمال کرسکیں۔ اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال میں اپنا کردار ادا کرے ،کشمیری عوام کو ان کا حق خود ارادیت دیا جائے ۔وزیراعظم عمران خان نے ایک ماہ بعد صوبہ پنجاب میں صحت انصاف کارڈ کی فراہمی کے حوالے سے جائزہ اجلاس طلب کر لیا۔وزیراعظم عمران خان سے صوبائی وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے ملاقات کی ۔