آصف علی زرداری صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان کا چائلڈ لیبر کے خلاف عالمی دن کے موقع پر پیغام
آصف علی زرداری صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان کا چائلڈ لیبر کے خلاف عالمی دن کے موقع پر پیغام
آج، ہم چائلد لیبرکے خلاف عالمی دن منا رہے ہیں۔ یہ دن ہمیں بچوں کو استحصال سے بچانے اور ایک ایسے مستقبل کی تعمیر کی یاد دہانی کراتا ہے جہاں بچے ایک محفوظ اور باوقار ماحول میں سیکھیں، کھیلیں اور نشوونما پائیں۔ بچوں سے مشقت لینا ایک عالمی چیلنج ہے ۔ بچوں کو محفوظ مستقبل کی فراہمی کیلئے حکومت اور سول سوسائٹی کو اجتماعی کوششیں کرنا ہوں گی۔ پاکستان، چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے مختلف بین الاقوامی کنونشنز کے دستخط کنندہ کے طور پر، بچوں کے استحصال کے خاتمے کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے۔
پاکستان نے بچوں کے استحصال کے خاتمے اور ان کی مدد کے لیے کئی اقدامات لیے ہیں۔ پاکستان نے نیشنل کمیشن آن رائٹس آف چائلڈ ایکٹ (2017) ، آئی سی ٹی چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ (2018) ، جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ (2018) ، بچوں کا روزگار ایکٹ (1991) ، اور گھریلو کارکنوں کا ایکٹ (2002) متعارف کرائے۔ پاکستان نے بچوں کے استحصال، چائلڈ لیبر کی روک تھام اور متاثرہ بچوں کی دیکھ بھال اور بحالی کے لیے مؤثر نظام اور سروس یونٹس بھی قائم کیے ہیں۔ اِن اقدامات میں بچوں کے حقوق پر قومی کمیشن، چائلڈ پروٹیکشن انسٹی ٹیوٹ، اور چائلڈ ویلفیئر بیورو کا قیام بھی شامل ہے۔
اگرچہ حکومت قوانین اور پالیسیاں نافذ کرتی آئی ہے مگر چائلڈ لیبر کا خاتمہ ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔ میں آجروں پر زور دیتا ہوں کہ وہ چائلڈ لیبر قوانین پر سختی سے عمل کریں اور اس امر کو یقینی بنائیں کہ کام کی جگہیں استحصال سے پاک ہوں۔ میں والدین اور سرپرستوں پر زور دیتا ہوں کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم کو مختصر مدتی فوائد پر ترجیح دیں۔ میں اسکولوں اور اساتذہ سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اُن بچوں کی شناخت کریں جو اسکول چھوڑ سکتے ہیں اور انہیں کلاس رومز میں رکھیں۔ میڈیا کو چائلڈ لیبر کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ مخیر حضرات اور سول سوسائٹی کو کمزور خاندانوں کی مدد کرنی چاہیے تاکہ کوئی بچہ غربت کی وجہ سے مزدوری کرنے پر مجبور نہ ہو۔
آج، میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ غزہ جیسے جنگ زدہ علاقوں میں بچوں کی حالتِ زار پر فوری توجہ دیں۔ ان علاقوں میں ہزاروں معصوم بچے قابض افواج کے تشدد اور جارحیت کی وجہ سے بے گھر، زخمی یا یتیم ہو چکے ہیں۔ بہت سے بچوں کو بھوک، تکلیف، اور چائلڈ لیبر میں شامل ہونے کے شدید خطرات کا سامنا ہے۔ ان بچوں کو فوری طور پر عالمی امداد، تحفظ اور انصاف کی ضرورت ہے۔
میں حکومتی اداروں، سول سوسائٹی، انسانی حقوق کے محافظوں، میڈیا، اقوام متحدہ کے اداروں، ماہرینِ تعلیم، والدین اور علمائے کرام پر زور دیتا ہوں کہ وہ چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ مجھے یقین ہے کہ ہم سب مل کر اس نظام کا خاتمہ کر سکتے ہیں جہاں بچوں کا استحصال ہوتا ہے اور ایک ایسا پاکستان اور ایک ایسی دنیا تشکیل دے سکتے ہیں جہاں ہر بچہ خواب دیکھنے، سیکھنے اور روشن مستقبل کی تعمیر کے لیے آزاد ہو۔
٭٭٭
Comments are closed.