وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت سول سروس اصلاحات کمیٹی کا 13واں اجلاس منعقد
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت سول سروس اصلاحات کمیٹی کا 13واں اجلاس منعقد
اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی واصلاحات وخصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت سول سروس اصلاحات کمیٹی کا 13واں اجلاس بدھ کو منعقد ہوا۔ اجلاس میں ادارہ جاتی ڈھانچے میں بہتری اور سرکاری ملازمین کے لیے مالی مراعات کو بہتر بنانے کے امور پر غور کیا گیا۔
کابینہ ڈویژن کی جانب سے ادارہ جاتی اصلاحات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جبکہ فنانس ڈویژن اور اکنامک افیئرز ڈویژن کے افسران نے موجودہ صورتحال اور مالی مراعات میں بہتری کے لیے مجوزہ سفارشات پر وزیر کو آگاہ کیا۔ اجلاس میں بھرتی کے معیار کو جدید تقاضوں کے مطابق بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
مالی مراعات کے حوالے سے اکنامک افیئرز ڈویژن اور فنانس ڈویژن کی پیش کردہ تجزیاتی رپورٹ میں سرکاری ملازمین کو درپیش مسائل جیسے ناکافی طبی سہولیات، ٹرانسپورٹ اور رہائش کی کمی کو اجاگر کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں سستی رہائش اور سفری سہولیات کی عدم دستیابی افسران کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ وفاقی وزیر نے ان سفارشات میں سے موزوں تجاویز کو منتخب کر کے وزیراعظم کو پیش کی جانے والی سمری میں شامل کرنے کی ہدایت دی۔

اجلاس کے شرکاء کو بتایا گیا کہ ریاست ہر سال پنشن کی مد میں 2 ملین افسران کو 1.04 ٹریلین روپے کی خطیر رقم ادا کرتی ہے۔ فنانس ڈویژن کے افسران نے آگاہ کیا کہ بجٹ 2025-26 میں پنشن اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں تاکہ سرکاری اخراجات کو متوازن بنایا جا سکے اور موجودہ پنشن نظام سے پیدا ہونے والے مالی بوجھ میں کمی لائی جا سکے۔
وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ پینشن کو غیر پیداواری سرمایہ کاری نہیں بننے دینا چاہیے اور ریٹائرڈ افسران کی مہارتوں کو مختلف اداروں میں بروئے کار لانے کی تجویز دی۔
طبی سہولیات کے مسئلے کے حل کے لیے وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز کی جانب سے پیش کردہ ہیلتھ انشورنس کے متبادل ماڈل پر بھی غور کیا گیا۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے متعلقہ حکام کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے سول سرونٹس کو دی جانے والی الاؤنسز کا تقابلی جائزہ لینے کی ہدایت دی۔ اس کے علاوہ یہ سفارش بھی زیر غور آئی کہ وفاقی حکومت میں مخصوص مدت کی سروس کو ترقی کے لیے لازمی شرط قرار دیا جائے۔
اجلاس میں تنخواہ، رہائش، ٹرانسپورٹ اور مونیٹائزیشن سے متعلق مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔ وزیر نے کہا کہ صرف مالی مراعات پر انحصار کرنے کے بجائے انتظامی اقدامات کے ذریعے افسران کو وفاقی حکومت میں خدمات انجام دینے کے لیے راغب کیا جائے۔
وفاقی وزیر نے متعلقہ وزارتوں کو ہدایت کی کہ تمام سفارشات اور نکات کو شامل کر کے حتمی رپورٹ تیار کی جائے تاکہ آئندہ اجلاس میں اس پر تفصیلی غور کیا جا سکے۔
Comments are closed.