
کوئٹہ/اسلام آباد: پی ٹی آئی کے ناراض رہنما یار محمد رند نے مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد میں ووٹ کا فیصلہ وقت انے پر کرینگے‘اپوزیشن اتحاد کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کے بعد سیاسی ہلچل مزید تیز ہوگئی ہے، ایک جانب حکومتی اتحادی ق لیگ اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کی اطلاع ہے اور کراچی میں تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے ایم کیو ایم نے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے تو دوسری جانب پی ٹی ائی کے ناراض رہنما سردار یار محمد رند نے سابق صدر اصف علی زرداری سے ملاقات کے بعد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے بھی ملاقات کی ہے۔پی ٹی ائی صوبہ بلوچستان کے صدر اور سابق صوبائی وزیرتعلیم سردار یار محمد رند نے پارٹی سے ناراضگی کے بعد اپوزیشن رہنماوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔گزشتہ روز یار محمد رند نے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات کی، اس ملاقات میں عبدالغفور حیدر، مولانا اسعد محمود اور اکرم درانی بھی شریک تھے۔ ذرائع کے مطابق دونوں رہنماوں کے درمیان ملاقات میں وفاق اور بلوچستان کی علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور موجودہ سیاسی صورتحال پر مشاورت کی گئی۔ ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے یار محمد رند نے کہا کہ پارلیمنٹ لاجز میں جس طرح پولیس نے ایکشن کیا یہ نہیں ہونا چاہیے تھا، ہم مولانا فضل الرحمٰن کی زندگی کے بارے میں فکرمند تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اج مولانا فضل الرحمٰن سے کل کے واقعے پر اظہار افسوس کیلیے ایا ہوں، تحریک عدم اعتماد پر ووٹ کا فیصلہ وقت انے پر کرینگے۔ اس موقع پر مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ سردار یار محمد رند تجربہ کار پارلیمنٹرین ہیں۔ اس سے دو روز قبل سردار یار محمد رند نے سابق صدر اصف علی زرداری سے بھی ملاقات کی تھی۔اصف زرداری کے ساتھ ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال پر گفتگو کے ساتھ عدم اعتماد پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا تھا، ذرائع نے بتایا کہ سردار یار محمد رند نے زرداری کو کہا تھا کہ عدم اعتماد سے متعلق فیصلہ مشاورت سے کرینگے۔ اس ملاقات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سردار یار محمد رند نے کہا تھا کہ اصف زرداری سے دوستی ہے اور کسی سے ملاقات کا مقصد یہ نہیں کہ اس کی جماعت جوائن کرلی۔یار محمد رند کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ اور کابینہ غیر سنجیدہ ہے، بلوچستان کے ایشوز کو سنجیدہ نہ لیا گیا تو حالات سنگین ہونگے۔ان کا کہنا تھا کہ میں اربوں روپے دے کر وزیراعلیٰ بننے کے بیان پر اج تک قائم ہوں، میرے بیان پر تحقیقات کیلئے کمیشن بنایا جائے۔



