
ٹی وی اینکر اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) سے منسلک سیاستدان 49 سالہ عامر لیاقت حسین کی تیسری شادی کی خبر منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر جہاں بھانت بھانت کے تبصرے ہو رہے ہیں وہیں ایک سنجیدہ بحث بھی جنم لے رہی ہے۔
یہ بحث پاکستان میں کم عمر دلہن کی تلاش کی معاشرتی وجوہات کے گرد گھومتی ہے جس کی ایک وجہ عامر لیاقت کی تیسری بیوی دانیہ شاہ کی عمر ہے۔ واضح رہے کہ عامر لیاقت نے خود شادی کے اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی اہلیہ 18 سال کی ہیں یعنی ان دونوں میں تقریباً 31 سال کا فرق ہے۔
پاکستان یا دنیا کے دیگر ممالک میں میاں بیوی کی عمر میں زیادہ فرق کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ قانون بھی 18 سال کی عمر میں شادی کی اجازت دیتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں کم عمر کی دلہن کو ترجیح دی جاتی ہے اور کیا یہ ایک عام رواج ہے؟ اور اس کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہوتے ہیں؟
بی بی سی نے ان سولات کا جواب تلاش کرنے کے لیے چند لوگوں سے بات کی ہے جن میں بہو کی تلاش کرتی ایک ماں اور رشتہ کروانے والی ایک خاتون بھی شامل ہیں۔ لیکن اس سوال کے جواب سے پہلے سوشل میڈیا پر ہونے والے اس تبصرے پر ایک نظر ڈالتے ہیں اور جانتے ہیں کہ دلہن کی عمر سے متعلق کیا رائے پائی جاتی ہے۔
’ضروری نہیں کہ قانونی طور پر درست چیز ٹھیک ہو‘
عامر لیاقت کی شادی کے بعد ایک سوال یہ اٹھا کہ انھوں نے اتنی کم عمر لڑکی سے شادی کیوں کی اور بحث کا مرکزی نقطہ یہ بھی ہے کہ کیا ایک پدرانہ معاشرے میں عمر کا یہ فرق کئی اور عوامل کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔
سوشل میڈیا پر صارف سوہنی انیکا نے لکھا کہ ضرروی نہیں کہ جس بات کی قانون اجازت دیتا ہو، وہ درست بھی ہو۔ انھوں نے لکھا کہ ’50 سال کے مرد کو 18 سال کی لڑکی سے شادی کی اجازت تو ہے، لیکن کیا عمر کے حساب سے وہ ایک بچی نہیں؟ جب وہ پیدا ہوئی ہوگی تو مرد کی عمر 32 سال ہوگی۔ اب آپ خود کو 32 سال کی عمر میں تصور کریں اور ایک بچی کے بارے میں سوچیں۔‘
Twitter پوسٹ کا اختتام, 1
اس معاملے پر یہ واحد تنقید نہیں۔ فلک نامی صارف نے بھی لکھا کہ ’بہت سے ادھیڑ عمر افراد اسی لیے چھوٹی عمر کی لڑکی سے شادی کرتے ہیں تاکہ اس کی شخصیت کو اپنی مرضی سے ڈھال سکیں اور وہ توجیہ پیش کرتے ہیں کہ وہ نابالغ تو نہیں۔ کیا وہ یہ نہیں سوچتے کہ جب وہ 25 سال کے تھے تو وہ 10 سال کی ہو گی؟‘
Twitter پوسٹ کا اختتام, 2
ماہین غنی نے لکھا کہ ’اصل سانحہ یہ ہے کہ پاکستان میں زیادہ تر مرد عامر لیاقت جیسے ہی ہیں۔ اپنی بیوی بچوں کو چھوڑ دو اور معاشرے میں نام بنانے کے لیے بچی جیسی دلہن ڈھونڈ لو۔‘
Twitter پوسٹ کا اختتام, 3
اس تنقید کے ردعمل میں بہت سے صارفین نے لکھا کہ ایسا نہیں۔ پاکستان کے سارے مرد عامر لیاقت ہیں نہ ہی سب مرد اتنی کم عمر لڑکی کی تلاش میں ہوتے ہیں۔
’کم عمر کی بہو چار لوگوں کو دکھاوں گی تو ہماری ہی واہ واہ ہو گی‘
بی بی سی نے جن افراد سے اس معاملے پر بات کی اس کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ کم عمر کی دلہن کی تلاش کی کئی وجوہات ہوتی ہیں اور یہ تلاش کرنے والے صرف مرد خود ہی نہیں، بلکہ ان کے خاندان بھی ہوتے ہیں جن کے ذہن میں کئی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔
امریکہ میں مقیم کراچی سے تعلق رکھنے والی ثمرین خان کے تین بچے ہیں۔ بی بی سی کی نامہ نگار آسیہ انصر سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کم عمر دلہن کی تلاش کی بڑی وجہ خوبصورتی ہوتی ہے۔




