ترک صدر رجب طیب اردوان (کل) اسلام آباد پہنچیں گے، پرسوں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرینگے
اسلام آباد (این این آئی)ترک صدر رچپ طیب اردوان (کل) اسلام آباد پہنچیں گے، چودہ فروری کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرینگے۔ ذرائع کے مطابق ترک صدر کا دورہ پاکستان دو روزہ ہو گا،ترک صدر کے دورہ پاکستان کے دوران اسٹریٹیجک اکنامک فریم ورک اور پلان آف ایکشن پر دستخط کیے جائیں گے اس حوالے سے وزارت اقتصادی امور نے بھی اپنی تیاریاں مکمل کر لیں۔ ذرائع کے مطابق تعلیم،دفاع اور اقتصادی شعبوں میں باہمی تعاون کے دس سے بارہ معاہدے پر دستخط متوقع ہیں، رجب طیب اردوان اسلام آباد میں پاک ترک اعلی سطح کی تزویراتی تعاون کونسل کے اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس کی صدارت ترک صدر طیب اردوان اور عمران خان کی جانب سے مشترکہ طور پر کئے جانے کا امکان ہے،پاک ترک اعلی سطح کی تزاویراتی تعاون کونسل کے اجلاس میں دو طرفہ تعاون مزیدفروغ پائیگا۔ ذرائع کے مطابق کونسل اسٹریٹیجک اکنامک فریم ورک کی رہنمائی اور نگرانی کریگی،ترک صدر کی آمد کے دوران معاہدے کو حتمی شکل دی جائیگی۔ ذرائع نے بتایاکہ دورے کے دوران باہمی تعلقات کے فروغ کیلئے تعاون کے مزید شعبوں کی تلاش بھی کی جائیگی،ترک صدر رجب طیب اردوان کے ہمراہ ایک بڑا وفد بھی ہو گا،ترک صدر کے ہمراہ وفد میں سرمایہ کار اورکاروباری شخصیات بھی پاکستان پہنچیں گی،ترک صدر پاکستان میں سرمایہ کاری سمیت کئی منصوبوں کی یادداشت مفاہمت پر دستخط کریں گے،دورہ پاکستان کے دوران ترک صدر وزیراعظم عمران خان،صدر مملکت عارف علوی، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے ملاقاتیں کریں گے،ان ملاقاتوں میں باہمی تعاون کے فروغ، دفاعی تعاون میں بہتری،افغانستان میں قیام امن، مشرق وسطیٰ کی صورتحال،سمیت باہمی سرمایہ کاری میں اضافہ پر تبادلہ خیال کیا جائیگا۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان دورہ پاکستان کے دوران 14 فروری کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔واضح رہے کہ ترکی اور پاکستان کے برادرانہ تعلقات انتہائی گرمجوش اور مضبوط ہیں اور ترکی نے ہمیشہ پاکستان کی اخلاقی سفارتی حمایت اور مدد کی ہے۔اس کے علاوہ ترکی، مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے پاکستانی موقف کا بھرپور حامی بھی ہے، جس نے ببانگ دہل مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم کے خلاف اپنی آواز بلند کی۔یاد رہے کہ ترک صدر آخری مرتبہ 2016 میں اپنی اہلیہ اور اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ مسلم لیگ (ن) کے دورے حکومت میں پاکستان کے دورے پر آئے تھے۔اس وقت پاکستان تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی نے ترک صدر کے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں شرکت کا بائیکاٹ کیا تھا۔ذرائع کے مطابق ترک صدر کو اس دورے کی دعوت وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے دی گئی تھی،گذشتہ برس شام میں جاری فوجی آپریشن کی مصروفیات کے باعث ترک صدر پاکستان نہیں آ سکے تھے،ترک صدر کو 23 اکتوبر کو پاکستان کا دورہ کرنا تھا،ترک صدر کا تین مرتبہ دورہ پاکستان ملتوی ہو چکا ہے ۔