عالمی یومِ انسانی حقوق کے موقع پر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز اور کشمیر پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام “کشمیری لوگ حقوق کے حامل ہیں، محض تابع نہیں” کے عنوان سے ایک اہم سیمینار جموں و کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا
اسلام آباد
10 دسمبر 2025
عالمی یومِ انسانی حقوق کے موقع پر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز اور کشمیر پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام “کشمیری لوگ حقوق کے حامل ہیں، محض تابع نہیں” کے عنوان سے ایک اہم سیمینار جموں و کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔سیمینار میں سیاسی رہنماؤں، سابق سفیروں، انسانی حقوق کے ماہرین، محققین، میڈیا کے نمائندگان اور طلبہ نے شرکت کی۔
سیمنار کے مہمان خصوصی وفاقی وزیر امور کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران انجنئیر امیر مقام تھے۔ سیمینار سے سابق صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان ، وزیر کشمیر کاز ارٹس اینڈ لنگویجیز نبیلہ ایوب خان، سابق وفاقی وزیر قانون احمر بلال صوفی ، ترجمان دفتر خارجہ ایمبسڈر طاہر اندرابی ،ایمبسڈر ضمیر اکرم ، الطاف حسین وانی ،ڈاکٹر راجہ محمد سجاد خان اور ائمہ افراز نے خطاب کیا۔
وفاقی وزیر امور کشمیر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ٹیم ورک کی صورت میں کام کرنا چاہیے ،،آج دنیا بھر میں انسانی حقوق کا دن منایا جا رہا ہے،مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں ،ہمارے آباؤ اجداد نے کشمیر کے حوالے سے جدوجہد کی۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے ساتھ میرا دلی لگاؤ ہے،77 سالوں سے کشمیری ظلم اور جبر برداشت کر رہے ہیں ،بہت سے لوگوں کی۔جیلوں میں شہادتیں ہوئی ،کشمیریوں کی پاکستان سے مخبت آج بھی قائم ہے،انہوں نے کہا کہ ہمیں ڈٹ کر کشمیریوں کی دلیری کی بات کرنی چاہیے ،معرکہ حق کے بعد انڈیا کو ایک سبق مل گیا
معرکہ حق کے بعد کشمیری بھائیوں کو بھی حوصلہ ملا،اللہ کرم ہے کے ہمارے پاس بہترین افواج موجود ہیں ،پاکستانی فوج نے کئی گنا زیادہ بڑے دشمن کو شکست دی،مسئلہ کشمیر کو حل کیے بغیر اس خطے میں امن نا ممکن ہے
وزیر اعظم شہباز شریف نے ہر فورم پر کشمیر کے حوالے سے بات کی،کشمیر کاز پر کوئی سیاست نہیں کرنی چاہیے۔انیوں نے کہا کہ کشمیر کاز پارٹیوں سے بالاتر ہےپوری دنیا کو دکھانا ہوگا کہ اس کام میں ہم سب ایک ہیں ،حریت کانفرنس کو بھی داد دیتا ہوں ،حریت کانفرنس کے لوگوں نے اس کاز کے لیے زندگیاں وقف کی ہیں
انڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں ہر طرح کا ظلم کیا ،انڈیا کو اپنے گریبان بھی جھاکنا چاہیے ۔انہوں نے بہترین سیمینار پر کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز اور کشمیر پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی تعریف کی ۔مقررین نے کہا کہ کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے جس کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان نے طاقت کے تمام ہتھکنڈے استعمال کیے لیکن کشمیریوں کا جذبہ ازادی نہیں دبا سکا۔ مقبوضہ کشمیر کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں اور کشمیری عوام کو سلام پیش کرتا ہوں۔ازاد کشمیر کے عوام کی بہتری کے لیے ہر ممکن اقدامات کر ے گی۔ معرکہ حق میں فتح نے کشمیر کے مسئلہ کو ایک بار پھر عالمی بحث کا موضوع بنا لیا ہے۔انہوں نے کشمیر پالیسی ریسرچ انسٹیوٹ اور کشمیر انسٹیوٹ اف انٹرنیشنل ریلیشنز کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر،انسانی حقوق کے عالمی چارٹر اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے عہدناموں میں درج حقِ خودارادیت کو کشمیری عوام کا بنیادی حق قرار دیا گیاہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے کمیشن برائے ہندوستان اور پاکستان کی قراردادوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ کشمیر کا تنازعہ اقوام متحدہ کی سطح پر تسلیم شدہ ہے اور ابھی تک حل طلب ہے۔بھارت کی جانب سے ارمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ، پبلک سیفٹی ایکٹ اور یو اے پی اے جیسے قوانین کے ذریعے انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں منظم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں جس میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، گرفتاریوں کا غلط استعمال، گھروں کی مسماری اور املاک کی ضبطی شامل ہیں کی مذمت کی گئی۔ہندوستانی حکومت مذہبی اور ثقافتی شناخت کو تبدیل کرنے کی کوششوں، کتابوں پر پابندیوں اور “جعلی معمول کی صورتحال” کے سرکاری بیانیے کو مسترد کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت اور بیرون ملک کشمیری طلبہ اور پیشہ وروں کو ہراساں کرنے کی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
Comments are closed.