
کوئٹہ( این این آئی)صوبائی وزیر خزانہ ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ موسمی تغیرات کی وجہ سے دُنیا بھر میں مختلف قسم کی بیماریاں پھوٹ پڑتی ہیں ترقی یافتہ ممالک کو موسمی تغیرات پر قابو پانے کے لیے صنعتی اور فضائی آلودگی کو کم کرنا ہوگا صنعتوں میں استعمال ہونے والی بائیوفیول کی وجہ سے خطرناک گیسوں کا اخراج ہوتا ہے جس سے دنیا کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے اور اوزون کی تہہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسپین ( میڈرڈ) میں منعقدہ عالمی موسمی تغیرات سے متعلق ترقی یافتہ ممالک کی کانفرنس میں شریک مندوبین سے اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ وہ موسمی تغیرات سے نمٹنے کے لیے اپنے ملک میں آلودگی کو کم کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے انہوں نے کہا کہ موسمی تغیرات کی وجہ سے دنیا کا درجہ حرارت انتہائی گرم ہونے سے گلیشیر کی پگھلنے کی رفتار تیز اور سمندروں کی سطح بلند ہوتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے ساحلی علاقوں کے لوگوں کو زیادہ نقصان کا اندشہ ہے انہوں نے کہا کہ آب و ہوا میں موجود آلودہ ذرات سے سانس اور گلے کی بیماریاں بڑھ رہی ہیں اور پھیپھڑوں کا کینسر عام ہوتا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ ہم سب کو اس عزم کا اعادہ کرنا ہوگا کہ ماحولیاتی آلودگی، موسمی تغیرات ،درجہ حرارت میں اضافہ، گلیشیروں کے پگھلنے کی شرح کو کم کرنے اور اوزان کی تہہ کو ہونے والے نقصان کو کم کرنے کے لیے مشترکہ کوشش کرنا ہونگی ورنہ آنے والی نسلوں کے لیے زندگی گزارنا مشکل ہو جائے گا۔وزیراعظم پاکستان کی گرین پاکستان مہم کے ذریعے ہر پاکستانی کو زیادہ سے زیادہ درخت لگانے چاہیے تاکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر خطرناک گیسوں کی شرح کو کم کیا جاسکے اور اس کے تباہ کاریوں سے انسان حیوان پودے اور ماحول کو محفوظ بنایا جاسکے۔



