نئی دہلی میں دھماکہ: عینی شاہد کا اہم بیان سامنے آگیا

16

 نئی دہلی: (10 نومبر 2025) — نئی دہلی میں ہونے والے حالیہ دھماکے کے حوالے سے عینی شاہد دھرمندر کا اہم بیان سامنے آیا ہے۔ عینی شاہد کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب وہ مخالف سمت سے گزر رہا تھا۔ واقعے کے فوراً بعد جائے وقوعہ سے چار جلی ہوئی لاشیں گاڑی کے اندر سے اور دو افراد کی لاشیں گاڑی کے باہر سے برآمد ہوئیں، جبکہ ایک شخص زخمی حالت میں دیکھا گیا۔

عینی شاہد نے بتایا کہ حادثے میں ملوث گاڑی سفید رنگ کی سوزوکی ماروتی تھی جس کی نمبر پلیٹ پر نام “محمد ندیم” اور ریاست ہریانہ درج تھی۔ تاہم، بھارتی وزیرِ داخلہ امیت شاہ اور بعض مرکزی میڈیا ادارے گاڑی کو Hyundai قرار دے رہے ہیں۔

شاہد کے مطابق گاڑی کے مالک کا نام ندیم بتایا گیا ہے، مگر بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر اس حوالے سے متضاد دعوے کیے جا رہے ہیں—کچھ اسے “سلمان” جبکہ بعض “طارق” کہہ رہے ہیں۔

عینی شاہد نے سوال اٹھایا کہ اگر گاڑی میں سوار چار سے پانچ افراد موقع پر ہی ہلاک ہوئے تو یہ کس نوعیت کا دہشت گرد حملہ ہے، جس میں ہلاکتیں خود مبینہ حملہ آوروں کی ہوئیں؟

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مودی سرکار ایک بار پھر واقعے کی اصل حقیقت سے توجہ ہٹانے کے بجائے اپنی بنائی ہوئی کہانی کو تقویت دے رہی ہے۔

Comments are closed.