علامہ اقبال کا فلسفہ خودی عزت نفس، مقصد اور تبدیلی کا ایک لازوال پیغام ہے، پروفیسر احسن اقبال کا ٹرینیٹی کالج کیمبرج میں اقبال ڈے کی تقریب سے خطاب

17

کیمبرج۔10نومبر :وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ علامہ اقبال کا فلسفہ خودی عزت نفس، مقصد اور تبدیلی کا ایک لازوال پیغام ہے۔پیر کو ٹرینیٹی کالج، یونیورسٹی آف کیمبرج میں اقبال ڈے کی تقریب سے خطاب کیا جہاں پاکستان کے قومی شاعر و فلسفی علامہ محمد اقبال نے فلسفہ کی تعلیم حاصل کی تھی۔ یہ تقریب 9 نومبر کو علامہ اقبال کی سالگرہ کے موقع پر منعقد کی گئی۔تقریب کا اہتمام کیمبرج یونیورسٹی پاکستان سوسائٹی نے وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے اشتراک سے کیا۔اپنے خطاب میں پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ علامہ اقبال کا فلسفہ خودی عزت نفس، مقصد اور تبدیلی کا ایک لازوال پیغام ہے۔انہوں نے کہا کہ اقبال نے ہمیں سکھایا کہ قومیں غربت سے نہیں، خودی کے زوال سے مٹتی ہیں۔وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ خودی تکبر نہیں بلکہ ایک بیدار، بااخلاق اور مقصدی ذات کا نام ہے ، ایسی ذات جو اپنے خالق، اپنی صلاحیت اور اپنی ذمہ داری کو پہچانتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اقبال کا فلسفہ اخلاقی بلندی اور فکری خودمختاری کی دعوت ہے۔پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ کیمبرج میں اقبال کا قیام ان کی فکری تربیت کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوا جہاں انہوں نے مغربی فکر کا تنقیدی مطالعہ کیا مگر اپنی شناخت برقرار رکھی۔انہوں نے کہا کہ یہی وہ اعتماد اور فکری توازن ہے جس کی آج مسلم دنیا کو ضرورت ہے ، جدید ترقی سے سیکھنے کی صلاحیت، مگر اپنی تہذیبی اور روحانی بنیادوں پر ثابت قدمی کے ساتھ ہے۔وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ پاکستان کو درپیش معاشی دباﺅ، طرز حکمرانی کے چیلنجز اور معاشرتی تقسیم جیسے مسائل کا حل خودی کے احیائ میں ہے ، یعنی اپنی تخلیقی اور اخلاقی قوت پر اعتماد بحال کرنے میں ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بے پناہ صلاحیتوں کا حامل ملک ہے، دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادیوں میں سے ایک، غیر معمولی تخلیقی قوت، اہم جغرافیائی محل وقوع، ثقافتی استقامت اور ہر بحران کے بعد مزید مضبوط ہو کر ابھرنے کی صلاحیت پر منحصر ہے۔پروفیسر احسن اقبال نے بتایا کہ پاکستان کا قومی ترقیاتی فریم ورک ”اڑان پاکستان“ اقبال کے اسی تصور خودی سے متاثر ہے جو اخلاقی و معاشی خودمختاری پر مبنی ہے۔انہوں نے کہا کہ اڑان پاکستان نوجوانوں کی مہارت، ڈیجیٹل جدت، ادارہ جاتی اصلاحات، شمولیت، نجی و سرکاری اشتراک اور عوام پر مبنی ترقی کے وڑن پر مرکوز ہے یہ اقبال کے فلسفہ خودی کا عملی اظہار ہے۔وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ اقبال کا شاہین صرف شعری استعارہ نہیں بلکہ اخلاقی کردار کا نمونہ ہے ، آزاد فکر، حوصلہ، مقصدی جدوجہد اور بلند نگاہی کی علامت۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نوجوانوں کو خود کو حالات کے شکار کے بجائے تقدیر کے معمار کے طور پر دیکھنا چاہیے۔پروفیسر احسن اقبال نے تجویز پیش کی کہ ٹرینیٹی کالج، کیمبرج میں بین الاقوامی اقبال کانفرنس 2027ئ منعقد کی جائے تاکہ علامہ اقبال کی 150ویں سالگرہ کو عالمی سطح پر منایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس میں دنیا بھر سے فلسفی، مورخ، ماہرین معیشت، سائنسدان، فنکار اور نوجوان محققین شریک ہوں گے تاکہ اقبال کی فکر، فلسفے اور ترقیاتی نظریات پر عالمی مکالمہ کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے یہ اعزاز کی بات ہوگی کہ وہ کیمبرج کے ساتھ مل کر اس عالمی تقریب کے انعقاد میں تعاون کرے۔ پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ اقبال کو خراج عقیدت پیش کرنے کا اصل طریقہ انہیں صرف یاد کرنا نہیں بلکہ ان کے پیغام پر عمل بھی کرنا ہے ، ایک ایسی قوم کی تعمیر جو انصاف، علم، تخلیق اور ہمدردی کی بنیاد پر کھڑی ہو۔انہوں نے کہاکہ آئیں اقبال کو اس طرح خراج عقیدت پیش کریں کہ ہم وہ قوم بنیں جس کا خواب انہوں نے دیکھا تھا ،خودی سے لبریز، جرات و ہمدردی سے مزین۔ پروفیسر احسن اقبال نے ٹرینیٹی کالج کی ماسٹر پروفیسر ڈیم سیلی ڈیویس، پرو وائس چانسلر پروفیسر کمال منیر اور بڑی تعداد میں طلبہ و اساتذہ سے ملاقات کی۔انہوں نے ٹرینیٹی کالج کی رین لائبریری کا دورہ بھی کیا جہاں علامہ اقبال کے نایاب مسودات اور تاریخی یادگاروں کا مشاہدہ کیا۔وزیر منصوبہ بندی نے پاکستان کے قومی شاعر و مفکر کی ابدی علمی و فکری میراث کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اقبال کی فکر آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ مشعل راہ رہے گی

Comments are closed.