
عسکر انٹرنیشنل
اسلام آباد/چلاس، 09 ستمبر
زیرِ تعمیر دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ 2026 کے اوائل میں ایک اور اہم مرحلہ عبور کرنے جا رہا ہے، جب مین ڈیم کی تعمیر کے لیے رولر کمپیکٹڈ کنکریٹ (آر سی سی) ورکس کا باضابطہ آغاز ہوگا۔
چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ محمد سعید نے آج چلاس شہر سے 40 کلومیٹر زیریں جانب دریائے سندھ پر جاری منصوبے کا دورہ کیا اور تعمیراتی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ ان کے ہمراہ ایف ڈبلیو او کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عبدالسمیع بھی موجود تھے، جبکہ منصوبے کے سی ای اوز، کنسلٹنٹس اور
کنٹریکٹرز کے نمائندے بھی شریک تھے۔
چیئرمین واپڈا نے کرشنگ پلانٹ، ڈائیورشن ٹنلز، ڈیم کی پشتوں اور بنیاد سمیت مختلف سائٹس کا معائنہ کیا اور انتظامیہ سے بریفنگ لی۔ انہیں بتایا گیا کہ منصوبے کے 13 ورک فرنٹس پر کام جاری ہے، جبکہ دریائے سندھ پر تعمیر کردہ ڈائیورشن سسٹم موجودہ ہائی فلو سیزن میں کامیابی سے چل رہا ہے۔ مزید یہ کہ مین ڈیم کی پشتوں اور بنیاد کی کھدائی دسمبر 2025 تک مکمل کر لی جائے گی۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین واپڈا نے زور دیا کہ منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے کنٹریکٹرز اضافی وسائل فراہم کریں اور تعمیراتی رفتار مزید تیز کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ واپڈا ٹیم اور کنسلٹنٹس تعمیر کے دوران ممکنہ مشکلات کے حل کے لیے پیشگی حکمتِ عملی اپنائیں۔
دورے کے دوران چیئرمین نے پراجیکٹ ایریا کے سکیورٹی انتظامات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔ بعد ازاں وہ کیڈٹ کالج چلاس پہنچے، جس کی تعمیر کے لیے واپڈا نے 2 ارب 10 کروڑ روپے فراہم کیے ہیں۔ یہ منصوبہ گلگت بلتستان خصوصاً متاثرہ علاقوں کے طلبہ کو جدید تعلیمی سہولیات دینے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ واپڈا اب تک ڈیم متاثرین کی بحالی، تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کی تعمیر پر 78 ارب 50 کروڑ روپے خرچ کر چکا ہے۔
دیامر بھاشا ڈیم کی تکمیل پر یہ دنیا کا بلند ترین آر سی سی ڈیم ہوگا، جس کی بلندی 272 میٹر اور پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 8.1 ملین ایکڑ فٹ ہوگی۔ منصوبے سے 1.23 ملین ایکڑ اراضی سیراب ہو سکے گی جبکہ 4,500 میگاواٹ پن بجلی نیشنل گرڈ کو مہیا ہوگی، جو سالانہ 18 ارب یونٹ ماحول دوست اور کم لاگت بجلی فراہم کرے گی۔


