قومی اسمبلی اجلاس ، ملک میں کل 1 لاکھ 83 ہزار ایڈز کے کیسز موجود ہیں، رجسٹرڈ صرف 25ہزار
اسلام آباد : قومی اسمبلی میں پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت ڈاکٹر نوشین حامد نے آگاہ کیا ہے کہ اندازے کے مطابق ملک میں کل 1 لاکھ 83 ہزار ایڈز کے کیسز موجود ہیں مگر رجسٹرڈ مریض صرف 25ہزار ہیں ،لوگ اس بیماری کی نشاندہی نہیں کرتے اور چھپاتے ہیں، بیرون ممالک سے دوملین ڈالر ایڈز کنٹرول کے لئے آنے والے ہیں،نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام اور آغا خان ہسپتال ملک بھر میں ایڈز کے ٹیسٹ بڑھانے کا بڑا منصوبہ لارہے ہیں، 2030تک ایڈز کے خاتمے کے لئے قومی پالیسی لارہے ہیں، ماضی کی حکومتوں نے ایڈز کے خلاف کبھی فنڈذ نہیں مختص کئے، ایڈز کے خاتمہ کے لئے فنڈز کے لئے بیرونی انحصار پر ہی رہے، مسلم لیگ (ن) کی راہنما مریم اورنگ زیب نے انکشاف کیا کہ کہا پاکستان اور فلپائن میں 57فیصد کی رفتار سے پھیل رہا ہے،دنیا میں بڑی حد تک ایڈز کنٹرول ہورہا ہے مگر ہمارے ہاں ایڈز کے لئے وہی فنڈز لگائے جارہے ہیں جو بیرون ملک سے ملتے ہیں ہم اپنا کوئی فنڈز نہیں رکھ رہے جبکہ سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے ایس جی ڈیز کو متحرک کر رہے ہیں اور ایڈز کنٹرول کرنے کے لئے منصوبہ بندی کے لئے اجلاس طلب کر رہے ہیں۔جمعہ کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی صدارت میں ہوا، پاکستان مسلم لیگ (ن) کی راہنما مریم اورنگ زیب نے ملک میں ایڈز کے بڑھتے کیسز کے حوالے سے توجہ دلاو نوٹس ایوان میں پیش کیا،توجہ دلائو نوٹس پر اظہار خیال کرتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری ڈاکٹر نوشین حامد نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے ایڈز کے خلاف کبھی فنڈذ نہیں رکھا، ایڈز کے خاتمہ کے لئے فنڈز کے لئے بیرونی انحصار پر ہی رہے ،لوگ اس بیماری کی نشاندہی نہیں کرتے اور چھپاتے ہیں،بیماری جب شدت پکڑتی ہے تو مریض علاج کے لئے آتے ہیں،پاکستان میں لوگ ایڈز کا ٹیسٹ ہی نہیں کراتے، اندازے کے مطابق ملک میں کل ایک لاکھ تراسی ہزار مریض ہیں مگر رجسٹرڈ صرف 25ہزار ہیں، بیرون ممالک سے دوملین ڈالر ایڈز کنٹرول کے لئے آنے والے ہیں نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام اور آغا خان ہسپتال ملک بھر میں ایڈز کے ٹیسٹ بڑھانے کا بڑا منصوبہ لارہے ہیں، 2030تک ایڈز کے خاتمے کے لئے قومی پالیسی لارہے ہیں، اب تک پمز میں ایک بھی بچہ ایسا پیدا نہیں ہوا جسے ماں سے ایڈز منتقل ہوا ہو۔ ایڈز کے ٹیسٹ میں اضافہ کر رہے ہیں،مریم اورنگ زیب نے کہا دنیا میں بڑی حد تک ایڈز کنٹرول ہورہا ہے مگر ہمارے ہاں ایڈز کے لئے وہی فنڈز لگائے جارہے ہیں جو بیرون ملک سے ملتے ہیں ہم اپنا کوئی فنڈز نہیں رکھ رہے جس طرح کرونا کے مریضوں کے ٹیسٹ کم کرکے سمجھا جارہا ہے کہ مریض کم ہوگئے اسی طرح ایڈز کے مریضوں کے ٹیسٹ تو اس سے بھی بہت کم ہیں مگر ایڈز پاکستان اور فلپائن میں 57فیصد کے حساب سے پھیل رہا ہے، مریم اورنگ زیب نے کہا کہ باہر سے ایڈز کے فنڈ جو آتے ہیں ان کے لئے حکومت پالیسی نہیں بنا سکی، سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ قومی اسمبلی کی ایس جی ڈیز کمیٹی کو ایڈز کنٹرول کے لئیمتحرک کررہے ہیں، اجلاس بلا رہے ہیں اور اس مسئلہ پر غور کریں گے۔