ٹرمپ کاٹوئٹر اکائونٹ مستقل معطل کردیاگیا
واشنگٹن : تاہم ان کے مواخذے کی توثیق سے انکار کر دیا۔ ریاست ڈیلاویئر میں رپورٹروں سے خطاب میں انہوں نے کہاکہ انہوں نے صدارتی انتخاب اس لئے لڑا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ٹرمپ صدارت کیلئے موزوں نہیں ۔ یہ بات آج نہیں بلکہ گزشتہ ایک سال سے کہہ رہے ہیں کہ ٹرمپ عہدہ صدارت کیلئے موزوں نہیں، وہ امریکی تاریخ کے نااہل ترین صدور میں سے ایک ہیں۔ تاہم صدر ٹرمپ کو ہٹانے کی کوششوں کی حمایت سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مواخذہ کانگریس کا کام ہے ، تاہم ان کے مواخذہ میں بڑی رکاوٹ مدت صدارت میں 2 ہفتے سے بھی کم وقت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بطور صدر ان کی تین اولین ترجیحات میں کورونا وائرس کا تدارک، ویکسین کی منصفانہ تقسیم اور معیشت کی بحالی شامل ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ٹرمپ ان کے اندازوں سے کہیں زیادہ فضول نکلے ، انہوں نے عالمی سطح پر امریکا کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا۔ نیوز ایجنسی کے مطابق مواخذے کی صور ت ٹرمپ واحد صدر ہوں گے جن کے خلاف دوسری مرتبہ مواخذے کی تحریک پیش ہوئی، پہلی بار 2019 میں ان کے تحریک پیش ہوئی مگر سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی کی اکثریت کی وجہ سے بچ گئے ۔ مواخذے کی صورت میں وہ 2024 میں صدارتی انتخاب نہیں لڑ سکیں گے ۔ ادھر ٹویٹر نے مزید تشدد پر اکسانے کے خطرے کے پیش نظر صدر ٹرمپ کا اکاؤنٹ مستقل طور پر معطل کر دیا۔ ٹویٹر کمپنی نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ صدر ٹرمپ کے ٹویٹس اور سیاق وسباق کے بغور جائزے کے بعد اس خطرے کے پیش نظر ان کا اکاؤنٹ مستقل طور پر معطل کر دیا ہے کہ وہ مزید تشدد پر اکسا سکتے ہیں۔ کمپنی کے مطابق انہوں نے پہلی مرتبہ کسی سربراہ مملکت کے اکاؤنٹ پر پابندی لگائی ہے ۔ وائٹ ہاؤس نے ٹویٹر کے فیصلے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ تاہم ٹرمپ کی صدارتی مہم کے اکاؤنٹ نے امریکی صدر کی زبان بندی کرنے پر ٹویٹر کمپنی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ ادھر صدر ٹرمپ نے سرکاری اکاؤنٹ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنا سوشل میڈیا پلیٹ فارم بنائیں گے ۔ نیوز ایجنسی کے مطابق صدر ٹرمپ کو ابھی تک وائٹ ہاؤس کے ٹویٹر اکاؤنٹ اور امریکی صدر کے ٹویٹر اکاؤنٹ تک رسائی حاصل ہے جو صدارتی مدت مکمل ہونے کیساتھ ہی ختم ہو جائے گی۔ ٹویٹر کی ترجمان نے نیوز ایجنسی کو بتایا کہ اگر کمپنی کو شواہد ملے کہ صدر ٹرمپ دونوں اکاؤنٹس کو ذاتی ٹویٹر اکاؤنٹ کی معطلی سے بچنے کیلئے استعمال کر رہے ہیں تو انہیں بھی بند کیا جا سکتا ہے ۔ ادھر رائے عامہ کے ایک سروے میں 57 فیصد امریکیوں نے صدر ٹرمپ کی فوری برطرفی کی حمایت کر دی۔ 2 روزہ نیشنل پبلک سروے کے نتائج کے مطابق 70 فیصد امریکیوں نے کیپٹل ہل پر حملے پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا جس میں ریپبلکن ووٹرز بھی شامل تھے ۔ 90 فیصد ڈیموکریٹ ووٹروں جبکہ 20 فیصد ریپبلکن ووٹرز نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ٹرمپ رضا کارانہ طور پر عہدہ چھوڑ دیں۔ 30 فیصد نے 25 ویں آئینی ترمیم کے تحت ٹرمپ کو ہٹانے ، 14 فیصد کے کانگریس کے ذریعے ہٹانے کی حمایت کی جبکہ 13 فیصد کا کہنا تھا کہ ٹرمپ مستعفی ہو جائیں۔ تاہم 12 فیصد امریکی رائے دہندگان نے کیپٹل ہل کی ہنگامہ آرائی میں شریک افراد کی حمایت کی۔