ایریگیشن نصیرآباد کے مغوی ڈرائیور غلام حسین مینگل کی عدم بازیابی کے خلاف آل ملازمین گرینڈ الائنس کی احتجاجی تحریک شدت اختیار کر گئی

26

نصیر آباد نامہ نگار
ایریگیشن نصیرآباد کے مغوی ڈرائیور غلام حسین مینگل کی عدم بازیابی کے خلاف آل ملازمین گرینڈ الائنس کی احتجاجی تحریک شدت اختیار کر گئی صوبائی صدر ایریگیشن ایمپلائز یونین علی بخش جمالی کی قیادت میں نکالی گئی احتجاجی ریلی شہر بھر میں گونجتی ہوئی پٹ فیڈر کینال مین قومی اشارہ پر دھرنے میں تبدیل ہو گئ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر مغوی کی بازیابی کے نعرے درج تھے سندھ بلوچستان قومی شاہراہ مکمل طور بند ہوگئ جس کے باعث گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہری اور مسافر شدید مشکلات سے دوچار تھے جبکہ احتجاج میں احتجاجی ریلی دھرنا میں عبداللہ بلوچ ایریگیشن سرکل نصیرآباد کے صدر سید ظہیر شاہ پیرامیڈیکس کے صدر کامریڈ نزیر احمد مستوئی بابو محمد عالم بلیدی بابو نثاراحمد چھلگری بابو کوڑا خان ہانبھی کچھی کینال کے وائس چیئرمین ذاکرحسین لہڑی جمیت علماء پاکستان کے صوبائی جنرل سیکرٹری علامہ عبدالحیکم انقلابی نیشنل پارٹی کے صدر جاگن خان مغیری سکندر خان گورشانی سمیت محکمہ آبپاشی کے ملازمین مختلف یونینوں کے نمائندگان اور سماجی حلقوں نے بڑی تعداد میں شرکت کرکے مغوی کی عدم بازیابی پر شدید برہمی کا اظہار کیا اس موقع پر آل ملازمین گرینڈ الائنس کے علی بخش جمالی۔ عبداللہ بلوچ سمیت دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غلام حسین مینگل کا اغواء صرف ایک شخص کا معاملہ نہیں بلکہ پورے محکمہ آبپاشی کے لیے عدم تحفظ کی علامت ہے کئی روز گزرنے کے باوجود اس کی بازیابی میں پیش رفت نہ ہونا انتظامیہ کی ناکامی کا کھلا ثبوت ہے اس سے پچھلے احتجاج میں بھی پانچ دن کی مہلت مانگی گئی تھی جو کہ پوری ہوئی لیکن تا حال اس میں کوئی پیش رفت نہیں آ سکی تمام ملازمین اپنے ساتھی کی بحفاظت واپسی تک کسی بھی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے ہماری یکجہتی کو کمزوری سمجھنے کی غلطی نہ کی جائے اگر حکام نے سنجیدگی نہ دکھائی تو احتجاج کا دائرہ مزید پھیل جائے گا تاہم اگر حکومت نے عملی اقدامات نہ کیے تو نتائج کی ذمہ داری انتظامیہ پر ہوگی بعدازاں ڈس ایس پی سرکل شمن سولنگی سے کامیاب مذاکرات کے بعد احتجاج کو وقتی طور پر مؤخر کر کے قومی شاہراہ کو ٹریفک کی روانگی کے لیئے کھوک دیا گیا مگر آل ملازمین گرینڈ الائنس نے اعلان کیا کہ احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا اور مرحلہ وار لائحہ عمل کے تحت پہلے مرحلے میں کل ربی کنال بند کیا جائے گا جبکہ دوسرے مرحلے میں زیرو پوائنٹ سے پٹ فیڈر کینال کی پانی فراہمی غیر معینہ مدت تک معطل کر دی جائے گی اگر مغوی بازیاب نہ ہوا۔

Comments are closed.