بلوچستان بھر کے صحافیوں میں پلاٹس اسکیم پر بے چینی

24

عسکر انٹرنیشنل رپورٹ

کوئٹہ، 9 دسمبر 2025: حکومت بلوچستان کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب کے صحافیوں کو رہائشی پلاٹس دینے کے فیصلے نے صوبے بھر کے میڈیا حلقوں میں شدید بحث چھیڑ دی ہے۔ اس اقدام پر مختلف اضلاع کے رپورٹرز اور صحافتی حلقوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ضلعی رپورٹرز جن میں استامحمد، جعفرآباد، نصیرآباد، صحبت پور جھل مگسی، کچھی، تربت، خاران، نوشکی، سبی، لورالائی، ژوب، خضدار اور دیگر علاقے شامل ہیں، کا کہنا ہے کہ وہ بھی بلوچستان کے میڈیا کا حصہ ہیں، مگر حکومتی مراعات ہمیشہ صرف کوئٹہ پریس کلب کے صحافیوں تک محدود رہتی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر فلاحی اقدامات ضروری ہیں تو پھر پورے بلوچستان کے صحافیوں کے لیے یکساں پالیسی کیوں نہیں بنائی جاتی۔

کئی صحافی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پلاٹس اسکیم کو صرف کوئٹہ تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ صوبے بھر کے مستحق اور مستقل رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے لیے توسیع دی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈی جی پی آر آفس اور مقامی اخبارات کے ایڈیٹرز کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔

استامحمد پریس کلب کے سابق صدر عبداللہ مگسی نے کہا کہ بلوچستان کے صحافی پہلے ہی معاشی مشکلات، سیکورٹی خدشات اور محدود وسائل سے دوچار ہیں، ایسے میں مراعات کی غیر مساوی تقسیم مزید مایوسی کا باعث بن سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ تمام اضلاع کو برابری کی بنیاد پر شامل کرتے ہوئے ایک جامع اور شفاف فلاحی پالیسی مرتب کی جائے۔

Comments are closed.