
دالبندین : رکن بلوچستان اسمبلی میر محمدعارف محمدحسنی نے کہا ہے کہ گوادر کی طرح چاغی کے حالات بھی خراب کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صادق سنجرانی کے لائے گئے افسران نے کرپشن اور کمیشن خوری کی کوشش کی تو عوام کے ساتھ مل کر تاریخی احتجاج کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے جاری کردہ ایک بیان میں کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے دور میں چاغی میں نہ صرف محکمہ جاتی کرپشن انتہائی کم کردی بلکہ چیک پوسٹوں پر بھی بھتہ خوری کو انتہائی محدود کردیا جس کی وجہ سے سرحدی کاروبار سے وابستہ افراد نے سکھ کا سانس لیا لیکن جام کمال خان حکومت کی تبدیلی کے بعد چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے اپنے من پسند انتظامی افسران لگاکر انھیں کھلی چھوٹ دی ہے لہذا عوام اور کاروباری افراد سے کہنا چاہتا ہوں کہ اگر چیک پوسٹوں پر انھیں تنگ کیا جاتا ہے تو وہ مجھ سے رابطہ کریں ہم صادق سنجرانی کے خلاف وہ احتجاج کریں گے کہ ان کا اسلام آباد میں بھی بیٹھنا مشکل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے دور وزارت میں عوامی فلاح و بہبود کے بے شمار منصوبے شروع کیے لیکن افسوس کہ مخالفین انہی فلاحی منصوبوں کو بنیاد بناکر ہمارے خلاف منفی پروپیگنڈہ کررہے ہیں جو سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق دور میں بھی چیئرمین سینیٹ کا چچا چیک پوسٹ پر بیٹھ کر رشوت لیتا تھا اب لگتا ہے کہ صادق سنجرانی کا پیٹ اسلام آباد اور کوئٹہ میں ہونے والی کرپشن سے نہیں بھرا اس لیے اس نے چاغی میں اپنے من پسند افسران لگاکر رشوت کے ریٹ بڑھادیئے ہیں جو ناقابل قبول اور قابل مذمت ہیں۔


