
کوئٹہ : پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری صوبائی صدر ملی اتل ملی شہید محمد عثمان کاکڑ کی چہلم کے سلسلے میں کوئٹہ میں منعقدہ تاریخی احتجاجی جلسہ عام سے پارٹی کے مرکزی سیکرٹری نواب ایاز خان جوگیزئی نے خطاب کرتے ہوئے ملی شہید عثمان کاکڑ کے چہلم کے جلسہ عام میں پارٹی کارکنوں اور کوئٹہ کے وطنپال اور باشعور عوام کی فقید المثال شرکت پر داد وتحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ عثمان خان پشتونخوامیپ اور پشتون قومی سیاسی تحریک کے عظیم رہنماء تھے جنہوں نے پشتون قومی سیاسی تحریک کو متحد ومنظم کرنے،قومی شعور بیدار کرنے اور قومی مطالبات کے حق میں راہ ہموار کرنے کیلئے تاریخی جدوجہد کی۔ اس عظیم رہنماء کو ملی شہید کا بلند وبالا مقام ان کی جرات وصداقت اور تاریخی رول سے حاصل ہوا۔ انہوں نے پشتون افغان ملت کے علاوہ بلوچ،سندھی،سرائیکی اقوام اور ملک کی تمام مظلوم عوام کے حق میں پارلیمانی اور عوامی محاذ پر موثر آواز اٹھایا اور ان کی ترجمان کی حیثیت سے حکمرانوں کے سامنے اقوام وعوام کے برحق مطالبات بہادری کے ساتھ پیش کیئے۔ انہوں نے کہا کہ خداوند تعالیٰ کسی قوم کی حالت اُس وقت تک نہیں بدلتی جب تک وہ قوم اپنی حالت بدلنے کا خود فیصلہ نہیں کرتی، پشتون افغان غیور ملت نے اپنی حالت بدلنے کیلئے خود کو تیار رکرنا ہوگا۔ موجودہ حالات میں ہم پر ایسے استعماری حکمران مسلط ہے کہ ہمارے تمام مسائل ومشکلات ان کی ناروا حکمرانی کے باعث پیدا ہوئے ہیں پاکستان کی قیام کا مقصد یہ تھا کہ اس ملک کے اقوام وعوام کو غربت بیروزگاری اور پسماندگی سے نجات حاصل ہوگی اور عزت وخوشحالی کی زندگی حاصل ہوگی لیکن پاکستان میں ہم نے صرف اپنے رہنماؤں اور قومی شہدا کے جنازے اٹھائیں ہیں اور ہماری غربت اور تباہ حالی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چار دہائیوں سے ہمارے ملک کے مراکز سے آزاد جمہوری افغانستان پر انتہائی انسانیت سوز جنگ مسلط کی گئی ہے مجاہد، القاعدہ اور طالب کے نام پر افغانستان میں ہمارے حکمرانوں نے افغان عوام کا قتل عام جاری رکھا ہے، اسلام کے مقدس ناموں کا استعمال کرکے افغانستان کی بربادی کیلئے ہر وسیلہ استعمال کیا گیا اور اس تباہ کن جنگ کی آڑ میں گزشتہ چالیس سالوں سے افغانستان کی بیش بہا قدرتی وسائل کی لوٹ مار کا سلسلہ جاری ہے افغانستان کے سنگ مرمر، قیمتی جنگلات کی لکڑی، جواہرات ودیگر قیمتی معدنیات پاکستان لائے جارہے ہیں جبکہ اس تمام دوران میں افغانستان کے اندر سکولوں ہسپتالوں سڑکوں ڈیموں اور افغانستان کی تمام تعمیر وترقی کے تمام انفراسٹریکچر کو تباہ کیا جارہا ہے۔ اور افسوسناک امر یہ ہے کہ تباہی وبربادی کی ان افغان دشمن اقدامات کو اسلام اور افغان کے نام پر جاری رکھا گیا ہے۔ وسطی پشتونخوا فاٹا کے علاقے کو بھی افغانستان کی طرح تباہی وبربادی کا شکار بنایا گیا اور یہاں کے لاکھوں عوام کو اپنے وطن سے بیدخل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وسطی پشتونخوا (فاٹا)کی تباہی وبربادی کی صورتحا ل کے نتیجے میں پشتون تحفظ موومنٹ PTMکا قیام عمل میں آیا۔ اور یہی تاریخ اور معاشرتی سائنس کا اٹل قانون ہے کہ تباہی کی صورتحال سے نجات حاصل کرنے کیلئے لیڈر اور تحریکیں پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی قومی وجود اپنی عزت وناموس اور اپنے قومی وسائل کا دفاع ہمارا قومی اور دینی فریضہ ہے۔ ملی اتل عثمان خان شہید نے یہی مقدس فریضہ ادا کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دشمنوں کا خیال تھا کہ عثمان خان کی شہادت سے پشتون قومی سیاسی تحریک کمزور ہوگی لیکن ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس عظیم ملی شہید کی شہادت نے پشتون افغان ملت میں ہزاروں عثمان پیدا کیئے ہیں۔ عثمان ایک فکر ایک سوچ ایک تحریک کا نام ہے، ملی شہید عثمان نے ہمت اور بہادری کے ساتھ شہادت سے پہلے اپنے حصہ کا کام نہایت خوش اسلوبی اور اورشہامت کے ساتھ سرانجام دیا۔ ملی شہید عثمان کو اپنے تاریخی رول اور اپنے عمل کے انجام کا بخوبی علم تھا اور وہ پرافتخار شہادت کیلئے تیار تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک خصوصاً ہمارے صوبے میں جنگل کا قانون لاگو ہے کمزور طاقتور کے رحم وکرم پر ہے ہمارے محافظ ہماری حفاظت سے غافل ہے اگر ہمارے ادار ے اپنے فرائض ذمہ داری سے ادا کرتے تو اے این پی کے رہنماء ملک عبید اللہ کاسی کی شہادت کا المناک واقعہ رونماء نہ ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پشتونخوا کے عوام کی قومی معدنیات کے قیمتی ذخائر حکمرانوں نے اپنے اور اپنے ایجنٹوں کے ناموں پر الاٹ کیئے ہیں۔ ہمارے استعماری حکمرانوں نے ہمارے بچوں کو دو پیشے اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے کہ یا تو وہ مزدور کی حیثیت سے شب وروز محنت کرکے آقاؤں کی دولت میں اضافہ کرے اور یا بندوق اٹھا کر اپنے محبوب وطن افغانستان کو تباہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری قومی بربادی وتباہی برداشت کی حد سے تجاوزکرگئی ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے قومی جرگوں میں اپنے قوم اور وطن کی قومی بقاء اور تحفظ کیلئے فیصلے کریں۔ انہوں نے پشتون قومی سیاسی رہنماؤں محمود خان اچکزئی، اسفندیار ولی، آفتاب احمد شیرپاؤ، مولانا فضل الرحمن اور مولانا سراج الحق سے دردمندانہ اپیل کی کہ وہ افغانستان میں امن کے قیام اور پاکستان کی پشتونوں کی قومی بقاء کیلئے اپنا رول ادا کریں اور یہی ملی شہید محمد عثمان کاکڑ کا قومی ارمان تھا۔




