پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکریٹریٹ کے جاری کردہ پریس ریلیز میں بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے حالیہ میٹرک نتائج کو تعلیم دشمنی کا ایک اور افسوسناک واقعہ قرار دیا گیا

20

کوئٹہ (پ۔ر) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکریٹریٹ کے جاری کردہ پریس ریلیز میں بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے حالیہ میٹرک نتائج کو تعلیم دشمنی کا ایک اور افسوسناک واقعہ قرار دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ فارم 47 کی غیر نمائندہ حکومت نے تمام اداروں کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے اور اب تعلیم جیسے اہم شعبے کو بھی نہیں بخشا گیا۔ خصوصاً بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے تحت منعقدہ میٹرک کے امتحانات اور ان کے نتائج کی تیاری میں جس طرح مداخلت کی گئی، وہ قابلِ مذمت اور ناقابل قبول ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اس غیر قانونی مداخلت سے نہ صرف محنتی اور قابل طلبہ و طالبات کا حق مارا گیا بلکہ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ حکومت کی تعلیم دشمن پالیسیاں اب عملی شکل اختیار کر چکی ہیں۔امتحانات کے آغاز سے ہی ضلعی انتظامیہ، بشمول ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز اور تحصیلداروں، پٹواریوں، جونیئر کلرکوں سمیت غیر متعلقہ افراد کو امتحانی مراکز کے انسپکٹر کے طور پر تعینات کیئے گئےاور مخصوص امتحانی سینٹروں کا خرید وفروخت ہوا امتحانی مافیا سرگرم ہو کر امتحانی سینٹرز ٹھیکے پر دیئے اور لئے گئے، جن میں مسلح افراد کی موجودگی سے طلبہ و طالبات پر نفسیاتی دباؤ پڑااور اس دباؤ کے باعث طلبہ اپنے امتحانات میں پرچے دلجمعی سے حل نہ کر سکے۔اس کے بعد مارکنگ کے مرحلے میں بھی ناانصافی کی گئی، اور جب نتائج تیار کیے جا رہے تھے تو کنٹرولر امتحانات کو اس سارے عمل سے جان بوجھ کر دور رکھا گیا۔ یاد رہے کہ بورڈ کے قواعد و ضوابط کے مطابق امتحانات کے نتائج کی تیاری اور اعلان کنٹرولر امتحانات کی ذمہ داری ہوتی ہے، مگر چیئرمین اور دیگر افسران نے اس اختیار کو نظرانداز کرتے ہوئے نتائج اپنی مرضی سے مرتب کیے اور اس ناروا عمل سے ذہین اور محنتی طلبہ کا حق غصب ہوا۔پریس ریلیز میں مزید کہا گیا ہے کہ کنٹرولر امتحانات نے اپنے تحفظات ایک تحریری مراسلے کے ذریعے اعلیٰ حکام تک پہنچائے، لیکن اُن کے خدشات کو سننے کے بجائے انہیں ان کے عہدے سے غیر قانونی برطرف کر دیا گیا اور ایک جونیئر افسر سے دستخط کروا کر نتائج کا اعلان کرایا گیا۔ ساتھ ہی کنٹرولر امتحانات کے خلاف غیر قانونی انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی جو سراسر ناانصافی ہے، حالانکہ کنٹرولر بورڈ کے خلاف انکوائری یا ان کا تبادلہ محکمہ ایجوکیشن کے سربراہ کے اختیارات میں ہے ۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ میٹرک کے حالیہ نتائج، کنٹرولر امتحانات کے تحفظات، اُن کی برطرفی، اور طلبہ کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر فوری طور پر جوڈیشل انکوائری کا اہتمام کیا جائے۔ یہ انکوائری امتحانات سے ل

Comments are closed.