این بی پی۔ آڈٹ،فراڈ انویسٹیگیشن ڈپارٹمنٹ اور اب انٹرنل کنٹرول نے بھی مین برانچ کراچی کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کردیا۔

18

نیشنل بینک کمپلائنس کے حوالے سے تین بڑے ڈپارٹمنٹس نے مین برانچ کی برانچ مینجمنٹ ٹیم کی کارکردگی پر مختلف اعتراضات اٹھا دیئے برانچ سے اسٹاف غیر حاضر رہتا ہے، برانچ مینجمنٹ ٹیم کھاتوں کا ریکارڈ فراہم کرنے سے نالاں ہے،مکمل عملہ انٹرنل کنٹرول ٹیم سے تعاون نہیں کرتا،کیش والٹ میں غیر متعلقہ افراد کی آمدو رفت رہتی ہے۔رپورٹ کا متن

اکتوبر 2024 کے حاضری رجسٹر پر انٹرنل کنٹرول ٹیم کے ریمارکس کے بعد ریجنل ایگزیکٹو سپورٹ اینڈ سروسز حسن پنھور نے بھی حاضری رجسٹر پر عملے کی ناقص کارکردگی پر برہمی کا اظہار کیا۔زرائع، ماہ اپریل 2025 میں انٹرنل کنٹرول ٹیم نے اپنی رپورٹ گروپ چیف فاروق سومرو کو جمع کروا دی تھی،گروپ چیف فاروق سومرو کی جانب سے عملے کیخلاف قانونی کاروائی کا انتظار

بیلہ جمشید فراڈ کیس کے بعد انٹرنل کنٹرول کی انکوائری رپورٹ نے بھی مین برانچ کی بی ایم ٹی کی ناقص کارکردگی کا بھانڈہ پھوڑ دیا،اعلیٰ انتظامیہ کا آشیرباد’ حیرت انگریز طور پر آپریشن مینیجر فیصل صدیقی کو ایس وی پی کے پروموشن کیلئے انٹرویو کی کال بھی دے دی گئی،صدر بینک رحمت حسنی،گروپ چیف آپریشن عمران فاروقی،گروپ چیف آڈٹ عمر انور، گروپ چیف فاروق سومرو،گروپ چیف ایچ آر عاصم بیگ اور جی ایم کراچی ریجن گل بہار مکمل خاموش

کراچی(ندائے بینکاران رپورٹ) نیشنل بینک آف پاکستان کے ریگولیٹری کمپلائنس کے حوالے سے تین اہم ڈپارٹمنٹس میں شامل آڈٹ گروپ، فراڈ انویسٹیگیشن ڈپارٹمنٹ اور انٹرنل کنٹرول ڈپارٹمنٹ کی جانب سے مین برانچ کراچی کی انتظامیہ اور اسکے عملے کی ناقص کارکردگی پر بھرپور عدم اعتماد کا اظہار کردیا ہے۔ باوثوق زرائع کے مطابق انٹرنل کنٹرول ٹیم کی جانب سے ماہ اکتوبر 2024 میں مین برانچ کراچی کی ریگولیٹری کمپلائنس کی رپورٹنگ کے دوران برانچ کی انتظامیہ اور عملے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مین برانچ کا عملہ غیر حاضر رہتا ہے۔ مانگے جانے والے ریکارڈ پر سست روی سے کام لیتا ہے جبکہ کچھ ریکارڈ فراہم بھی نہیں کیا جاتا ہے جسکے حوالے سے رپورٹ میں تفصیلی طور پر لکھ دیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ آپریشن مینیجر مین برانچ کراچی فیصل صدیقی ہیڈ آفس اور دیگر عملے سمیت مختلف اداروں کے معزز افراد کیساتھ غیر قانونی طور پر کیش والٹ میں آمد و رفت کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں۔انٹرنل کنٹرول کی ٹیم کو کسی بھی قسم کی کوئی رہنمائی فراہم نہیں کی گئی اور اپنی مدد آپ کے تحت جو ریکارڈ ملا اسکے دستاویزات کی فوٹو کاپیاں تک خود ہی کی گئی۔ مین برانچ کراچی کی انتظامیہ کی جانب سے اپنے ہی ادارے کی انٹرنل کنٹرول ٹیم کے ساتھ اس طرح کا ہتک آمیز سلوک اس بات کی واضح نشاندہی کر رہا ہے کہ مین برانچ کی انتظامیہ کی ایڈ منسٹریشن مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے جبکہ برانچ انتظامیہ اور دیگر عملہ اپنی مکمل من مانیاں کر رہا ہے۔اس بات سے یہ بھی صاف واضح ہے کہ مین برانچ کی انتظامیہ برانچ کا متعلقہ ریکارڈ فراہم نہ کرکے اپنی بے قاعدگیوں اور بدعنوانیوں کو چھپا رہی ہے تاکہ اسکے حوالے سے ان سے مستقبل میں کوئی باز پرس نہ کی جائے۔انٹرنل کنٹرول نے اپنی انکوائری کے دوران ماہ اکتوبر سن 2024 کے حاضری رجسٹر پر یہ ریمارکس بھی درج کیئے ہیں کہ مین برانچ کی انتظامیہ اور عملہ غیر حاضر رہتا ہے جنہیں اپنے فرائض کی انجام دہی سے کوئی سروکار نہیں ہے جس پر ریجنل ایگزیکٹو ٹیم کے ریجنل ایگزیکٹو سپورٹ اینڈ سروسز حسن پنھور کی جانب سے مین برانچ کراچی کا ہنگامی دورہ کیا گیا اور انہوں نے بھی اپنے دورے کے دوران انٹرنل کنٹرول کی جانب سے حاضری رجسٹر پر درج کیئے گئے ریمارکس کی روشنی میں مین برانچ کراچی کی انتظامیہ اور عملے کی ناقص کارکردگی اور ٹیم سے عدم تعاون کا مظاہرہ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ کیلئے منفی ریمارکس درج کیئے۔انٹرنل کنٹرول ٹیم کی جانب سے گروپ چیف انٹرنل کنٹرول فاروق سومرو کو اپنی تفصیلی رپورٹ ماہ اپریل 2025 میں جمع کروا دی گئی ہیں جسکی روشنی میں کاروائی ہونا باقی ہے۔ مین برانچ کراچی کی کارکردگی کے حوالے سے اس سنگین صورتحال میں ایک جانب تو بیلہ جمشید فراڈ کیس ہے جس میں آپریشن مینیجر فیصل صدیقی کی جانب سے بخیر کسی وجہ کے بیلہ جمشید کو جنرل لیجر بیلنسں نہ ہونے اور کسی بھی قسم کی ریکوری کے باوجود بھی کلین چٹ دیتے ہوئے ہیڈ آفس کیلئے ٹرانسفر کردیا گیا جبکہ دوسری جانب انٹرنل کنٹرول کی ٹیم کی رپورٹ ہے جو مین برانچ کراچی کی مکمل انتظامیہ اور عملے کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کر چکی ہے جسکے بعد بھی آپریشن مینیجر فیصل صدیقی کی بطور آر آی آپریشن سائوتھ تقرری باعث تنقید اور تشویش ہے۔ آڈٹ، فراڈ انویسٹیگیشن ٹیم اور انٹرنل کنٹرول ٹیم تینوں قومی بینک کے اہم ستونوں کی جانب سے میں برانچ کراچی کی کارکردگی پر مایوسی اور عدم اطمینان کے باوجود بھی نیشنل بینک کی اعلی انتظامیہ کی جانب سے آپریشن مینیجر فیصل صدیقی کو عہدے میں برتری دیکر ریجنل ایگزیکٹو آپریشن بنائے جانے کے آرڈرز کا اجراء اپنے ہی بینک کے ریگولیٹری ڈپارٹمنٹس کا مزاق اڑانے کے مترادف ہے۔ ستم ظریفی کی حد تو تب دیکھنے میں آئی جب ندائے بینکاران کو زرائع سے وصول ہونے والی تازہ ترین اطلاع کے تحت اتنے سنگین الزامات جسکی وجہ سے وہ پہلے فراڈ انویسٹیگیشن ٹیم پھر تحقیقاتی ادارے میں زیر تفتیش ہیں کو ایس وی پی لیڈر میں پروموشن کیلئے اگلے ہفتے انٹرویو کی کال دے دی گئی۔اعلی انتظامیہ کے ان غیر مقبول اور غیر دانشمندانہ اقدامات سے یہ بات صاف واضح ہوتی ہے کہ آپریشن مینیجر فیصل صدیقی کو اعلیٰ انتظامیہ کا مکمل آشیرباد حاصل ہے اور چاہے وہ سیاہ کریں یا سفید انہیں ادارے میں کوئی روکنے والا نہیں ہے۔صدر بینک رحمت حسنی،گروپ چیف عمران فاروقی،گروپ چیف عمر انور، گروپ چیف فاروق سومرو اور کراچی ریجن کے نئے آنے والے جی ایم گل بہار کی ان اہم معاملات میں خاموشی بھی ایک سوالیہ نشان ہے کیونکہ نہ آج کے دن تک اعلی انتظامیہ کی جانب سے فیصل صدیقی کیخلاف کوئی کارروائی کی گئی اور نہ ہی انہیں ایسے سنگین الزامات کے باوجود بھی آر آی آپریشن کے عہدے سے بر طرف کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔ندائے بینکاران آنے والے دنوں میں مین برانچ کراچی کی ناقص کارکردگی کے حوالے سے مزید سنسنی خیز انکشافات کریں گا۔

Comments are closed.