بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل کے دور افتادہ علاقے رڑکن میں زلزلہ گزر چکا لیکن اس کے زخم آج بھی تازہ ہیں
کوہلو (نامہ نگار) بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل کے دور افتادہ علاقے رڑکن میں زلزلہ گزر چکا لیکن اس کے زخم آج بھی تازہ ہیں درجنوں خاندان جن کے گھروں کی دیواریں مٹی میں مل گئیں آج بھی ملبے کے قریب بیٹھے ہیں نہ آواز ہے نہ احتجاج صرف آنکھوں میں بے بسی اور خاموشی یہ وہ لوگ ہیں جو بول نہیں سکتے لیکن ان کی حالت چیخ چیخ کر پکار رہی ہے ہمیں چھت دو صرف ایک سایہ ایک پناہ اس بارش سے پہلے مون سون کا موسم قریب ہے اور رڑکن کے رہائشیوں کے پاس اپنے بچوں کو بارش سے بچانے کے لیے نہ در و دیوار ہیں نہ چھت خواتین اپنی اوڑھنیوں سے بچوں کو دھوپ اور بادل سے بچانے کی کوشش کرتی ہیں اور بزرگ زمین پر چادر بچھا کر آسمان کی طرف تکتے رہتے ہیں ان متاثرین کی حالتِ زار اس وقت منظر عام پر آئی جب کوہلو سے تعلق رکھنے والے مقامی صحافی احمد مری نے ذاتی طور پر متاثرہ علاقے کا دورہ کیا مشکل راست
Comments are closed.